اپنا دفاع کرنے اور حریفوں پر یلغار کرنے پر مجبور ،پارٹی کے اندرونی جھگڑے چیف منسٹر کے لیے بہت بڑا چیلنج
حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس قیادت نے ریاست میں اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اپنے حریفوں کے خلاف یلغار کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے جو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ ماضی میں جس ایجنڈے پر ٹی آر ایس عمل کرتی تھی اسی ایجنڈے کو دوسری جماعتیں اپنایا کرتی تھیں ۔ لیکن ٹی آر ایس میں حالت بدلیں بدلیں نظر آرہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے وہ اب اپوزیشن جماعتوں کے طئے کردہ ایجنڈے پر عمل کرنے اور طاقتور جوابی حملہ کرنے کے فلسفہ پر عمل کررہی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تحریک کی تمام جماعتوں نے تائید کی تھی مگر اپنے آپ کو تحریک کے چمپئن کی طرح پیش کرتے ہوئے 2014 میں ٹی آر ایس نے معمولی اکثریت سے حکومت تشکیل دے دی ۔ اس کے بعد اپنے آپ کو طاقتور کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے گرام پنچایت کے کونسلرس سے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان راجیہ سبھا کو تک ٹی آر ایس میں شامل کرلیا جس میں ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ دوسرے منتخب عوامی نمائندے یہاں تک انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں اور پارٹی کے اہم قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا ۔ ٹی آر ایس کی اس پالیسی کی وجہ سے ریاست میں تلگو دیشم کا نام و نشان ختم ہوگیا اور اس سے پہلے اے نریندرا اور وجئے شانتی کے علاوہ دوسری پارٹیوں کو ٹی آر ایس میں ضم کرلیا ۔ تاہم اب ریاست میں سیاسی حالت پوری طرح تبدیل ہوگئے ہیں ۔ مرکزی بی جے پی حکومت تلنگانہ پر ساری توجہ جھونک چکی ہے اور کانگریس بھی اپنے وجود کو منوا رہی ہے ۔ بڑی تعداد میں دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کا ٹی آر ایس میں اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے ۔ تحریک کے ساتھ پارٹی سے وابستہ رہنے والے قائدین میں ناراضگی پیدا ہورہی ہے ۔ چیف منسٹر کو اب اپوزیشن سے مقابلہ کرنے کے ساتھ پارٹی کے اندرونی جھگڑوں کو ختم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔ ساتھ ہی انکم ٹیکس ، ای ڈی اور سی بی آئی کے تلنگانہ میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔ چیف منسٹر کے ارکان خاندان کے خلاف بھی مختلف الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ جس کے بعد چیف منسٹر نے اپنے ایجنڈے کو تبدیل کردیا ہے ۔ کانگریس بالخصوص بی جے پی سے نمٹنے کے لیے حملہ آور ہونے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میں بی جے پی کا سہ روزہ قومی اجلاس منعقد ہوا ۔ اس وقت شہر میں بی جے پی کے بجائے ٹی آر ایس کے بیانرس اور پوسٹرس دکھائی دئیے ۔ چیف منسٹر نے صدر جمہوریہ کے اپوزیشن اتحادی امیدوار یشونت سنہا کو حیدرآباد طلب کر کے بی جے پی کی تشہیر پر قابو پالیا ۔ منگوڑ میں امیت شاہ سے پہلے جلسہ عام منعقد کرلیا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 17 ستمبر کو لبریشن ڈے تقریب منانے کا اعلان کرنے پر تلنگانہ قومی یکجہتی تقریب منانے کا اعلان کردیا ۔ امیت شاہ کا جلسہ عام سکندرآباد پریڈ گراونڈ پر منعقد ہوا ۔ اس دن این ٹی آر اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ایس ٹی طبقات کو 10 فیصد تحفظات دینے کا اعلان کردیا ۔ اس سے قبل ضلع رنگاریڈی میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے 4 فیصد مسلم تحفطات کو ختم کرتے ہوئے ایس ٹی طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔۔ ن