کانگریس قائدین کے وفد کا دورہ لگچرلہ، گاؤں والوں سے ملاقات

   

عہدیداروں پر حملہ کیلئے بی آر ایس قائدین ذمہ دار، مفادات کا تحفظ کرنے کا تیقن
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ملوروی کی زیر قیادت کانگریس قائدین کے ایک وفد نے کوڑنگل کے لگچرلہ گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کی۔ گذشتہ دنوں کلکٹر وقارآباد اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کے واقعہ کے بعد سے لگچرلہ گاؤں میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ علاقہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور بی آر ایس قائدین اس مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ حقائق سے واقفیت کیلئے ڈاکٹر ملوروی کے علاوہ رکن اسمبلی پرگی رام موہن ریڈی، صدرنشین فارمرس کمیشن ایم کودنڈا ریڈی، ٹرائیبل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین بی نائیک نے لگچرلہ گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے مقامی افراد سے ملاقات کی۔ انہوں نے کلکٹر اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال سے واقفیت حاصل کی۔ بعد میں کوڑنگل میں چیف منسٹر کی قیامگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر ملوروی نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے سازش کے تحت لگچرلہ میں عہدیداروں پر حملے کیلئے گاؤں والوں کو اکسایا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر اور پی نریندر ریڈی اس سازش میں ملوث ہیں۔ ترقیاتی کاموں کو روکنے کیلئے بی آر ایس نے یہ منصوبہ بنایا تاکہ چیف منسٹر کی امیج متاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ فارما کمپنی کے قیام کیلئے اراضی حاصل کرنے کے مقصد سے ضلع کلکٹر دیگر عہدیداروں کے ہمراہ لگچرلہ گاؤں روانہ ہوئے تھے۔ عہدیداروں کا مقصد گاؤں والوں سے مشاورت کرنا تھا لیکن بی آر ایس قائدین نے عہدیداروں پر حملہ کیلئے گاؤں والوں کو اکسایا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد میں بہت کم ایسے ہیں جو حملہ میں ملوث رہے۔ کانگریس قائدین نے عوام کو بھروسہ دلایا کہ حکومت ان کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بہکاوے میں آئے بغیر عوام کو عہدیداروں پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ صورتحال کے بارے میں پارٹی قائدین کو رپورٹ پیش کریں گے۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ بی آر ایس نے دس سالہ دور حکومت میں صرف ایک خاندان کی بھلائی پر توجہ مرکوز کی ہے۔1