خصوصی اجلاس ایک ایسے وقت منعقد کیا جارہا ہے جب تملناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم عروج پر ہے : جے رام رمیش
نئی دہلی، 14 اپریل (یو این آئی) کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے منگل کے روز پارلیمنٹ کے آئندہ خصوصی اجلاس کے وقت اور انعقاد کے طریقہ کار پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مناسب مشاورت یا شفافیت کے بغیر کام کر کے جمہوری اصولوں کو پامال کر رہی ہے ۔ ایک بیان میں رمیش نے کہا کہ خصوصی اجلاس 16 اپریل سے شروع ہونے والا ہے ، جبکہ اس وقت تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہوگی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ وقت حکومت کے ارادوں اور ترجیحات پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا، “پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس پرسوں یعنی 16 اپریل سے شروع ہوگا-جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم عروج پر ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے انتخابات کے اختتام کے بعد کل جماعتی اجلاس (آل پارٹی میٹنگ) بلانے کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ، “مودی حکومت نے انتخابات مکمل ہونے کے بعد آل پارٹی میٹنگ بلانے کی اپوزیشن کی مکمل طور پر معقول اور جائز درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے ،” جبکہ اس مجوزہ تاخیر کا دورانیہ صرف دو ہفتے کے قریب ہوتا۔ جے رام رمیش نے مزید الزام لگایا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو بحث کیلئے مقررہ مجوزہ آئینی ترامیم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے جمہوریت کا مکمل مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج صبح تک مودی حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ وہ آئینی ترمیمی بل شیئر نہیں کیے ہیں جن پر انہیں بحث اور ووٹنگ کرنی ہے ۔” وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے حکومت پر “بلڈوزر ذہنیت” کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگایا اور اشارہ دیا کہ حکومت بغیر کسی بحث یا اتفاقِ رائے کے اہم قانون سازی کے فیصلوں کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ مرکز نے یہ خصوصی اجلاس کئی ریاستوں میں جاری سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہم کے دوران بلایا ہے ، جس میں توقع ہے کہ آئینی ترامیم سمیت اہم قانون سازی کی تجاویز پیش کی جائیں گی۔ اپوزیشن جماعتیں ایجنڈے پر مزید وضاحت اور مشاورت کیلئے وقت کا مطالبہ کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم اقدامات کیلئے تمام جماعتوں کے درمیان وسیع تر بحث اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے ۔