کانگریس کو اقتدار پر لانے میں مسلمانوں کا اہم رول

   

مسلم وزیر نظر انداز ، محمد عبدالعزیز صدر ایم پی جے کا دورہ محبوب نگر کے بعد ردعمل
نظام آباد : 14/ مئی ۔ ( محمد جاوید علی ) ۔ صدر ریاستی مومنٹ پیس اینڈ جسٹس تلنگانہ (ایم پی جے) محمد عبدالعزیز نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں ضلع محبوب نگر کے اٹکور اور نارائن پیٹ کے دورہ کے بعد زمینی سطح پر جائزہ لینے کے بعد اس بات کو محسوس کیا جا رہا ہے کہ ریاستی کابینہ میں مسلم نمائندہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے انہوں نے چیف منسٹر مسٹر ریونت ریڈی سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کو اقتدار میں لانے میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کانگریس پارٹی کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسلم اقلیتی نمائندے کو فوری کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ان کا حق ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی کابینہ میں ایک بھی مسلم وزیر کی عدم موجودگی بہت سے خدشات اور بہت سے سوالات کھڑے کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی نہیں سنتا ہے کہ بات درد مندوں کی تو بات اور بڑھتی ہے مختصر نہیں ہوتی ۔ گزشتہ 2023 کے ریاستی اسمبلی انتخابات کے موقع پر بڑی امیدوں کے ساتھ ہم نے اپنا رویہ بدل کر جہد کاروں اور مختلف تنظیموں نے بھی مل جل کر کانگریس کے اقتدار بخشا اور اقتدار پر لانے کی پوری کوشش کی اب کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے کردار اور اقلیتوں کی نمائندگی کو بھی اقلیتوں کی اسکیمات کو زمین پر لانے کی کوشش کرے ایک بھی مسلم نمائندے کی عدم موجودگی کی بنا پر مسلمانوں کے اندر احساس کم تری پائی جاتی ہے اور ہمارا کوئی نمائندہ نہیں ہے ، محمد عبدالعزیز نے کہا کہ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلے ، کوشش کریں نہ کہ ان کو حالات کے حوالے کریں جمہوریت کے اندر ہر طبقے کی نمائندگی اور ہر کاسٹ کی نمائندگی نہ گزیر قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ آپ نے کوئی نمائندہ منتخب نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نمائندہ بھیجا اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان متحد ہو کر کسی ایک مسلمان کو لانا بھی چاہے تو جمہوری نظام کے اندر 20 فیصد کی تعداد اپنا نمائندہ منتخب کرکے اسمبلی میں نہیں بھیج سکتی یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اقلیتوں کے ووٹ ساتھ لے کر انہیں کامیاب بنانے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حالات کے حوالے نہ کریں کوئی بھی مسلمان اپنا نمائندہ نہیں دے سکتا عام طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ انتخابات میں مسلم نمائندے کو ناکام بنانے کی وجہ سے کابینہ میں مقام فراہم نہیں کیا گیا یہ بات بالکل ہی درست نہیں ہے کیونکہ آبادی کی تناسب سے نمائندہ منتخب ہونا مشکل ہے جب تک اکثریت ساتھ نہیں دیتی تب تک منتخب ہونا ناممکن قرار دیا اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنہیں منتخب کیا گیا ہے انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے مسلمانوں کی بات کو اسمبلی کونسل میں پیش کرنے کا موقع فراہم کریں تاکہ ایوانوں میں نمائندگی ہو سکے ۔ محمد عبدالعزیز نے چیف منسٹر مسٹر ریونت ریڈی سے اس بات کو سختی سے نوٹ لیتے ہوئے فوری اس پر عمل کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا اور الزام تراشی بند کرتے ہوئے عملی طور پر ثبوت پیش کرنے کی خواہش کی۔