برسر اقتدار ٹی آر ایس سے ترک تعلق کا اعلان ۔ پارٹی میں کوئی سنوائی نہ ہونے کا الزام
حیدرآباد۔ آدی بٹلہ میونسپل کارپوریشن کی صدرنشین آرتھیکا گوڑ نے تلنگانہ راشٹرسمیتی سے علحدگی اختیار کرکے دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی اور کہا کہ کانگریس میں کم از کم ان کی قدر ہے جبکہ برسراقتدار جماعت میں کوئی سنوائی تک نہیں ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں ہزیمت کا سامنا کرنے والی آدی بٹلہ میونسپل کارپوریشن کی صدرنشین کی واپسی نے کانگریس کو نیا حوصلہ دیا ہے ۔ آرتھیکا گوڑ نے رکن پارلیمنٹ کے وینکٹ ریڈی سے ملاقات کرکے دوبارہ کانگریس میں واپسی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہ جاریہ سال کے اوائل میں آدی بٹلہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں کانگریس ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرکے صدرنشین کے عہدہ پر فائز ہوئی تھیں لیکن گذشتہ دنوں کارپوریشن کے جملہ 15 میں سے 14کارپوریٹرس نے ضلع کلکٹر سے صدرنشین اور ان کے شوہر کے خلاف شکایت میں کہا تھا کہ ان کے شوہر بلدی امور اور دفتر میں مداخلت بیجا کے مرتکب ہورہے ہیں جس پر ضلع کلکٹر نے ضلع ایجوکیشن آفیسر کو تحقیقاتی کمیٹی کا نگران مقرر کرکے تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔ آرتھیکا گوڑ کو ٹی آر ایس میں شامل کرکے صدرنشین بنانے پر رکن اسمبلی ٹی آر ایس منچی ریڈی کشن ریڈی نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور صدرنشین و رکن اسمبلی کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ آرتھیکا گوڑ نے بتایا کہ ٹی آر ایس نے عہدہ دے کر انہیں پارٹی میں شامل کیا تھا اور اس وعدہ کو پورا بھی کیا گیا لیکن جب بلدی عہدیدار بالخصوص کمشنر بلدیہ ہی صدرنشین کی ہدایات کو ماننے سے انکار کردیں تو کارپوریشن کا مطلب بے فیض ہوجائے گااسی لئے کانگریس میں واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ آدی بٹلہ میونسپل کارپوریشن میں جملہ 15 کارپوریٹرس ہیں جن میں 8کانگریس ‘ 6ٹی آر ایس اور ایک بی جے پی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ آرتھیکا گوڑ کے شوہر پروین گوڑ نے کہا کہ کانگریس کارپوریٹرس ان کی اہلیہ کی اس لئے مخالفت کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے پارٹی چھوڑ کر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ ٹی آر ایس کارپوریٹرس مخالفت اس لئے کر رہے کیونکہ وہ کانگریس سے پارٹی میں شامل ہوئیں اور رکن اسمبلی ان کے خلاف ہیں۔