کرائسٹ چرچ میں ہلاک ہونے والی متوفی کے شوہر نے حملہ آور کو’’معاف‘‘ کردیا

,

   

کرائسٹ چرچ۔ ایک شخص جس کی اہلیہ کرائسٹ چرچ حملے میں شہید ہوگئی اور وہ انہیں جب بچانے کے لئے مسجد کے اندر پہنچے تو انہو ں نے کہاکہ ان کے دل میں حملہ آور کے لئے کوئی نفرت نہیں ہے‘ معافی پر زردیتے ہوئے کہاکہ یہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔

فرید احمد نے کہاکہ ’’ میں اس سے کہنا چاہتاہوں ‘ ایک انسان کے طور پر میں اس سے محبت کرتاہوں۔ جو بھی اس نے کیا اس کو میں قبول نہیں کرتا۔ جو اس نے کیا ہے وہ غلط ہے‘‘۔

جب ان سے استفسار کیاگیا کہ 28سالہ سفید فام ذہنیت کے حامل مشتبہ کو اگر آپ معاف کردیں تو انہو ں نے کہاکہ’’ یقیناً۔

سب سے بہترین چیز معافی‘ سخاوت‘ محبت اور مثبت او رخیال رکھنا ہے‘‘۔

النور مسجد میں گن کی گولیوں کا شکار ہونے والے پہلی دولوگوں میں 44سالہ حسنہ احمد شہید ہوگئی تھیں۔مسٹر احمد اور ان کی بیٹی 1990میں بنگلہ دیش سے نیوزی لینڈ ائے تھے اور ان کی ایک بیٹی ہے۔

جب گولیاں چلنا شروع ہوئے تو اس وقت حسنہ خواتین او ربچوں کو حال سے نکلنے میں مدد کررہی تھیں۔ مسٹر احمد نے کہاکہ’’ وہ چلارہی تھیں‘ ادھر آؤ ‘ جلدی آؤاور انہوں نے بہت سارے بچوں اور عورتوں کو محفوظ گارڈن تک لے گئیں‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’پھر وہ میرے لئے واپس ائی۔ کیو نکہ میں وہیل چیر پر تھا ‘ اور جب وہ گیٹ کے پاس ائے اور گولی کاشکار ہوگئی ۔

وہ زندگیاں بچانے میں مصروف ہوگئی اور اپنی جان کی فکر نہیں کی‘‘۔

سوشیل میڈیا پر مرنے والوں کی تصوئیریں وائیرل ہونے کے بعد کسی نے مجھے ایک تصویر بتائی جس کے بعد مجھے اندازاہوا کہ میری بیوی بھی اس دہشت گردحملے میں شہید ہوگئی ہے۔ میں اس کے لئے دعاگو ہوں۔

انہوں نے کہاکہ اگر دوببارہ مشتبہ دہشت گرد کے پاس انہیں بیٹھنے کاموقع ملاتو میں اس کو اپنی زندگی پردوبارہ غور کرنے کے لئے کہوں گا