کرناٹک ،آندھرا پردیش میں ای ڈی دھاوے

   

نئی دہلی: ای ڈی نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں منگل کو کرناٹک اور آندھرا پردیش میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ای ڈی نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں چھاپوں میں 31 لاکھ روپے کی غیر محسوب نقدی ضبط کی گئی ہے۔سوریہ نارائن ریڈی اور بھرت ریڈی کیخلاف منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) 2002 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ای ڈی نے کہا کہ اس معاملے میں بیلاری، کرناٹک میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور 10 فروری کو تلاشی لی گئی تھی۔تحقیقاتی ایجنسی کو تلاشی کے دوران ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ بھرت ریڈی نے مبینہ طور پر اسمبلی انتخابات سے عین قبل چند مہینوں میں تقریباً 42 کروڑ روپے کی نقد رقم جمع کی تھی اور اسی کا استعمال غیر قانونی لین دین کے لیے کیا گیا تھا۔معلومات کے مطابق، ای ڈی کے چھاپے میں مجرمانہ دستاویزات، کاروباری ریکارڈ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات کا نیٹ ورک ملا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس مدت کے دوران 31 لاکھ روپئے کی بے حساب نقدی کے ساتھ کئی اہم شواہد ضبط کئے گئے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھرت ریڈی، اس کے معاون رتنا بابو اور دیگر غیر قانونی ادائیگیوں کے لیے نقد رقم جمع کرنے میں ملوث تھے۔ای ڈی کی تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرتھ ریڈی (بھارت ریڈی کے بھائی) نے غیر ملکی کمپنیوں میں غیر اعلانیہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔