مسلم رائے دہندوں کا کانگریس کے حق میں ووٹ کے استعمال پر 130 نشستوں کا حصول ممکن
حیدرآباد۔17اپریل(سیاست نیوز) کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج ملک کی سیاست پراثرانداز ہوں گے اور کرناٹک میں مسلم رائے دہندے متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کرناٹک انتخابات میں کانگریس کو کم از کم 130 نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کا امکان ہے۔224 نشستوں پر مشتمل کرناٹک اسمبلی میں کانگریس کو اگر 130نشستوں پر کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں ہندستان میں سیکولر ازم کے نئے دور کا آغاز ہوگا اور فرقہ پرستوں کے حوصلے کمزور ہونے لگیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک میں اقتدار کے حصول کے لئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کے علاوہ سیکولر ووٹوں کو بھی منقسم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے لیکن کانگریس کی جانب سے بی جے پی کے ووٹوں کو بھی کانگریس کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے ہی کانگریس کو مستحکم سیاسی جماعت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور مختلف اگزٹ پولس نے کانگریس کو اقتدار یقینی دکھایا تھا لیکن تبدیل شدہ حالات کے دوران یہ دعویٰ کیا جانے لگا تھا کہ کانگریس کی حالت کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے حالات میں بھی بہتر پیدا ہونے لگی ہے لیکن اب جبکہ ریاست کرناٹک میں دونوں سیاسی جماعتوں کے موقف کو بہتر اور مستحکم قرار دیا جا رہاہے ایسے میں مسلم ووٹوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اگر ان حالات میں مسلم رائے دہندے اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحدہ طور پر کانگریس کے حق میں اپنے ووٹ استعمال کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس کو 130 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ سابق چیف منسٹر کرناٹک جگدیش شیٹر کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے مستعفی ہونے اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے سے بھی کانگریس کو فائدہ حاصل ہونے کی قیاس آرائیاں کی جار ہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ بی جے پی قائد جگدیش شیٹر کی کانگریس میں شمولیت سے کانگریس پارٹی کو استحکام حاصل ہونے کا امکان ہے کیونکہ جگدیش شیٹر کرناٹک میں ایک قدآور قائد کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران ٹکٹ نہ دیئے جانے کی وجہ سے بی جے پی سے علحدگی اختیار کرنے والے قائدین کے علاوہ ان کے ناراض حامیوں کی کانگریس میں شمولیت کے فیصلہ کے باوجود کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں حاصل ہونے والے سیکولر ووٹ اور پارٹی کے سیکولر کردار کو کوئی گزند نہیں پہنچے گی بلکہ پارٹی اپنے اصولوں پر کسی بھی طرح کی مفاہمت نہ کرتے ہوئے ریاست میں بہتر ‘ کرپشن سے پاک اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی حکومت فراہم کرے گی۔م