تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش پر احتجاج، ٹیپو سلطان کے فرضی قاتلوں کے نام پر پوسٹرس
حیدرآباد۔12۔مارچ(سیاست نیوز) کرناٹک میں مودی کی آمد پر لگائے گئے بیانرس کو عوامی احتجاج پر نکال دیا گیا ۔ ٹیپوسلطان کے متعلق جھوٹے پروپگنڈے پر مشتمل بیانرس جو وزیر اعظم نریندر مودی کی آمد پر لگائے گئے تھے انہیں مقامی عوام کے شدید اعتراض اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش پر احتجاج کے بعد ہٹادیا گیا۔ نریندر مودی کے خیر مقدم کے لئے لگائے گئے بیانر پر ٹیپوسلطان کو شہید کرنے والوں کے نام کے طور پر ڈوڈا ننجے گوڈا کے علاوہ اری گوڈا کے نام تحریر کئے گئے تھے شاہ میسور ٹیپوسلطان کے قاتلوں کے طور پر ان فرضی ناموں کو پیش کرنے والے بیانرس پر نریندر مودی کی تصویر آویزاں کی گئی تھی ۔ اری گوڈا اور ننجے گوڈا کو خیالی کردار تصور کیا جاتا ہے اور ان کا تعلق کرناٹک کے وکالیگا طبقہ سے بتاتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ٹیپوسلطان کو وکالیگا طبقہ کے ان افراد نے قتل کیا تھا ۔ دونوں کی خیالی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصویر پر مشتمل بیانرس پر مقامی عوام کے اعتراض و احتجاج کے بعد ہٹادیا گیا۔ ٹیپوسلطان سے نفرت اوران کی شہادت کے لئے وکالیگا طبقہ کے ان دو افراد کی خیالی تصویر اور انہیں نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے عوام میں منافرت پھیلانے کی ان کوششوں کو تاریخ مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ برطانوی سامراج کی اتحادی افواج کے ساتھ مقابلہ کے دوران ٹیپوسلطان کی شہادت نہیں ہوئی بلکہ وکالیگا طبقہ سے تعلق رکھنے والے ننجے گوڈا اور اری گوڈا نے ٹیپوسلطان کو قتل کیا تھا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت اور حکومت کی تاریخ کو مسخ کرنے کی ان کوششوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی کس قدر سرپرستی حاصل ہے اور ملک کی تاریخ کو کس طرح سے زعفرانی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی مثال وزیراعظم کی آمد پر لگائے گئے یہ بیانر ہے جن کے ذریعہ نوجوان نسل کو بے بنیاد تاریخ سے واقف کروایا جانے لگا ہے۔ م