کسان مارچ: طاقت کے استعمال سے بچنے عدالت کا مشورہ

   

چنڈی گڑھ: کسانوں کے احتجاج کے درمیان پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کیا ہے۔ منگل (13 فروری 2024) کو عدالت نے کہا کہ یہ لوگ ہندوستانی شہری ہیں۔ انہیں ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق بھی حاصل ہے۔ ریاستی حکومتوں کو ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں یہ لوگ احتجاج کر سکیں۔ کسانوں کے مارچ کے پیش نظر ہریانہ کے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور کچھ سرحدیں بھی سیل کر دی گئی ہیں۔اسی واقعے کے ایک دن بعد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ان کے حقوق ہیں لیکن ریاست کو سڑکوں پر لوگوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہیے۔ہائی کورٹ نے کہا کہ اظہار رائے کے بنیادی حق میں توازن ہونا چاہیے۔ کوئی حق الگ نہیں۔عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی قیمت پر امن و امان کی پاسداری کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ طاقت کا استعمال آخری حربہ ہونا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اس سے گریز کیا جائے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے منگل کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی مظاہرہ یا تحریک کرنا ہے تو ریاستی حکومتوں کو اس کے لیے جگہ کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ ہائی کورٹ نے ایک نوٹس بھی جاری کیا تھا جس میں پنجاب، ہریانہ اور مرکزی حکومتوں سے اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کو کہا گیا تھا۔ہائی کورٹ چاہتی ہے کہ تمام فریق مل بیٹھ کر اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔ فصلوں کے لیے اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت سمیت اپنے مطالبات پر دو مرکزکے ساتھ ناکام ملاقات کے بعد کسانوں نے منگل کو دہلی کی طرف مارچ کیا۔