سرینگر میں نیشنل کانفرنس کی خواتین وِنگ کا احتجاج
سری نگر: نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ نے پیر کے روز پاکستان کی ہندوستان کے خلاف میچ میں جیت کا جشن منانے کے الزام میں میڈیکل طلبا پر مقدمے درج کرنے کے خلاف سرینگر میں احتجاج کیا۔ احتجاجی خواتین جم کر نعرہ بازی کر رہی تھیں اور انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اور پارٹی کے جھنڈے بھی تھامے تھے۔اس موقع پر ایک احتجاجی خاتون نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل طلبا کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر درج کی گئی ہے بلکہ ان کے خلاف دو چار اور مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بی جے پی چاہتی ہے کہ کشمیر کے لوگ تعلیم حاصل نہ کر سکیں، وہ بے کار رہیں اور پتھر باز بن جائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ وہ ہمارے طلبا کو کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اور کشمیریوں کے ساتھ بھی بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔احتجاجی خاتون نے وزیر داخلہ امت شاہ کے حالیہ دورہ جموں و کشمیر کے دوران کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بات کرنے کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ’وزیر داخلہ نے کہا کہ میں کشمیرکے نوجوانوں کے ساتھ بات کروں گا لیکن یہاں طلبا کو گرفتار کیا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان طلبا کو رہا کیا جانا چاہئے پھر بات چیت شروع کی جانی چاہئے۔ احتجاجی خواتین نے میڈیکل طلبا کے خلاف درج مقدموں سے دستبرداری کا بھی مطالبہ کیا۔