کشمیر میں انسانی حقوق کو خطرہ سے زیادہ دہشت گردی تشویشناک

   

سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ضروری، کشمیری پنڈتوں کی نمائندہ امریکی تنظیم کا یو ایس کانگریس کمیشن میں بیان

واشنگٹن ۔ 16 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کشمیر میں انسانی حقوق اور شہری آزادی کو اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا دہشت گردی اور انتہا پسندی سے ہے ۔ کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کرنے والی سرکردہ امریکی تنظیم نے یو ایس کانگریس کمیشن کو یہ بات بتائی ۔ ٹام لینٹوس انسانی حقوق کمیشن کے لیے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کشمیری اوورسیز اسوسی ایشن نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ کمیشن نے کمیونٹی کے ان افراد تک پہنچنے کی کوشش نہیںکی جو گذشتہ 30 برسوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاموشی سے شکار ہیں۔ ڈیموکر یٹک پارٹی کے غلبہ والے کمیشن میں جمعرات کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک سماعت ہوئی ۔ کشمیری اوورسیز اسوسی ایشن کے صدر شکون منشی اور سکریٹری امریتا کور نے کمیشن میں ایک بیان داخل کیا ۔ جس میں یہ وضاحت کی گئی ۔ اس بیان کو جمعہ کے دن پریس کے لیے جاری کیا گیا ۔ بیان میں انہوں نے کمیشن کے شریک صدور نشین جیمس میک گوورن اور کرسٹوفراسمتھ پر زور دیا کہ اس پلیٹ کو سیاسی محرکات کی جانب سے اغوا نہ کرلیا جائے ۔ کمیشن کی جانب ہندوستان کو جموں و کشمیر میں درپیش سیکوریٹی کے چیالنج کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ جو سرحد پار دہشت گردی کی وجہ ہے ۔ اسوسی ایشن نے کمیشن سے کہا کہ وہ ہندوستان میں سرحد پار سے دہشت گردی کی پشت پناہی کی اپنی پالیسی ختم کرنے کے لیے پاکستان پر زور دے جو کشمیر میں بلا تفریق مذہب انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے لیے ضروری ہے ۔ جموں و کشمیر کی صورتحال راست طور پر سرحد پار دہشت گردی کا نتیجہ ہے اور یہ وسیع تر دستاویزی حقیقت ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد گروپس کو تربیت اور اسلحہ دیا جاتا ہے ۔ جنوب ایشیا میں یہ اس کی پالیسی ہے ۔ اس دہشت گردی کے نتیجہ میں گذشتہ تین دہوں کے دوران 42 ہزار سے زائد شہری صرف جموں و کشمیر میں مارے گئے ہیں ۔ القاعدہ ، داعش اور دیگر گروپس سے رابطہ کے باعث اقوام متحدہ سیکوریٹی کونسل نے 130 دہشت گردوں اور 25 دہشت گرد گروپس کو فہرس میں شامل کیا اور ان پر پابندیاں عائد کی گئیں ۔ تین دہوں کی دہشت گردی نے جموں و کشمیر کی معمول کی زندگی کو متاثر کردیا ۔ نوجوانوں اور خواتین کو معاشی مواقعوں سے محروم کردیا ۔ اسوسی ایشن نے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کی حمایت کی ۔