کشمیر میں عنقریب انٹرنیٹ خدمات کا احیاء

   

راجیہ سبھا میں مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کا بیان
نئی دہلی، 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج راجیہ سبھا میں کہا کہ کشمیر، خاص طور پر وادی میں حالات تیزی سے معمول پر آرہے ہیں اور خطے میں جلد ہی انٹرنیٹ خدمات شروع کر دی جائیں گی۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر میں کسی بھی تھانہ علاقے میں دفعہ 144 نافذ نہیں ہے ۔ صرف کچھ تھانہ علاقوں میں رات آٹھ بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک کچھ پابندیاں نافذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں حالات تیزی سے معمول پر آرہے ہیں۔ خطے میں موبائل فون سروس شروع کر دی گئی ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکومت مانتی ہے کہ انٹرنیٹ سروس کافی اہم ہے لیکن ملک اور شہریوں کی حفاظت اس سے بھی زیادہ ضروری اور اہم ہے ۔ وادی میں پڑوسی ملک اور دیگر عناصر کی سرگرمیوں سے سبھی واقف ہیں لہذا انٹرنیٹ خدمات بحال نہیں کی گئی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کی سفارشات کے مطابق انٹرنیٹ خدمات پر پابندی عائد کی گئی ہے اور اس پابندی کو مقامی انتظامیہ کی سفارش پر ہٹا لیا جائے گا۔مسٹر شاہ نے کہا کہ حکومت کے لئے ملک اور شہریوں کی حفاظت سب سے اہم ہے ۔ حکومت کی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے کہ 5 اگست کے بعد سے وادی میں ایک بھی شخص کی موت پولیس کی گولی سے نہیں ہوئی ہے ۔ وادی میں حالات سدھرنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حالات کے سلسلے میں جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ کشمیر میں وافر مقدار میں دوائیں دستیاب ہیں۔ اسپتال اور ان کی نزدیکی دکانوں میں دوائیاں دستیاب ہیں۔ اس کے لئے موبائل وین کے ذریعے بھی دوائیں تقسیم کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر 24 گھنٹوں کے دوران کشمیر کے کسی بھی حصے میں دوائیں فراہم کرا دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اسکول اور کالج کھل گئے ہیں۔ دوکانیں کھل رہی ہیں۔ بینکنگ خدمات ٹھیک طرح سے چل رہی ہیں۔ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں معمول کا کام کاج ہو رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وادی میں سیب کی زیادہ تر خریداری کی جا چکی ہیں۔ خطے میں معمول کی رسدمیں آٹھ سے 16 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔