این ایف آئی ڈبلیو کی آنکھیں کھولدینے والی رپورٹ
کئی لوگ ذہنی خلل اور قلب پر حملے کے امراض میں مبتلا، مواصلات، حمل و نقل صفر کے برابر
سرینگر۔25 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر قائد غلام نبی آزاد جو منگل کے دن اپنے جموں و کشمیر کے 6 روزہ دورے کے دوسرے مرحلے میں جموں پہنچ گئے۔ انہوں نے تاجروں، حمل و نقل انجام دینے والے خانگی اداروں اور سرحد پر رہنے والے لوگوں کے متعدد وفود سے ملاقاتیں کی اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں عوام کو جو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس پر تبادلہ خیال کیا۔ خواتین کی ایک 5 رکنی ٹیم نے گزشتہ ہفتہ کشمیر کا دورہ کیا اور دفعہ 370 کی برخاستگی کے بعد سے جو سخت تحدیدات عائد کی گئی ہیں اس سے عورتیں اور بچے جس طرح متاثر ہورہے ہیں اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ ٹیم جو 17 ستمبر سے 21 ستمبر تک کشمیر میں مقیم رہی۔ اس نے اس دوران فوج نے جو زیادتیاں کی اس کی ’’مقررہ مدت‘‘ میں تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈیا ویمن کی قائد انی راجہ نے بتایا کہ وادی میں فوج کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ فوج کوئی مقدس گائے کی طرح نہیں ہے۔ راتوں میں نوجوانوں لڑکوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے۔ ان کے خاندان کے افراد یہ نہیں جانتے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ انی راجہ نے ’’خواتین کی آواز‘‘ کشمیر کی حقائق پر مبنی رپورٹ‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کرنے کے بعد یہ باتیں بتائیں۔ این ایف آئی ڈبلیو کی جہد کاروں نے بتایا کہ انہوں نے جو حقائق کا پتہ چلایا ہے وہ سری نگر، شوپیان، پلوامہ اور نیڈیپورا اضلاع کے رہنے والوں سے مل کر ان سے بات چیت لکھا ہے۔ اس ٹیم کی ایک رکن سیدہ حمید نے کہا کہ اندازے مطابق 13 ہزار نوجوان 5 اگست سے اب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ انہو ںنے پتہ لگایا ہے کہ عام شہریوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ 8 بجے شب کے بعد گھر کی بتیاں بجھادیں۔ انہوں نے پنڈی پورہ کا ایک واقعہ مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک لڑکی نے اپنے گھر میں ایک لیمپ کو 8 بجے شب کے بعد بھی جلتا ہوا رکھا وہ مطالعہ کررہی تھی۔ فوج کے سپاہی اس کے گھر میں گھس پڑے اور اس کے والد اور بھائی کو زبردستی اٹھا لے گئے۔ فیڈریشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں عوامی ٹرانسپورٹ بالکل نہیں ہے اور ڈاکٹر دماغی خلل اور قلب پر حملوں کے واقعات میں اضافے سے پریشان ہیں۔ اس ٹیم نے ارباب مجاز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام خاندانوں کو معاوضہ ادا کرے جو حمل و نقل کی عدم دستیابی اور مواصلات کی غیر موجودگی کے سبب اپنے عزیز او اقارب کو گنواچکے ہیں۔ اس ٹیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 370 کی برخاستگی سے اب تک جتنے بھی کیس درج کئے گئے ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے اور جن لوگوں کو حبس بیجا میں رکھا گیا ہے انہیں فوری رہا کیا جائے اور اعتماد کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں۔