کلکتہ ہائیکورٹ میں پسماندہ مسلم ریزرویشن کیخلاف سماعت کا آغاز

   

کلکتہ : کلکتہ ہائی کور ٹ میں پسماندہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے غیرقانونی سے متعلق عرضی پر سماعت شروع ہوگئی ہے ۔عرضی گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی بنگال میں مسلمانوں کو پسماندہ طبقے کے طور پر ریزرویشن کا نظام قانونی طور پر درست نہیں ہے ۔جسٹس تپوبرتا چکرورتی کی زیرقیادت ڈویژن بنچ میں مدعی امل چندر داس کے وکلاء نے اس معاملے میں اپنے دلائل رکھے ۔عدالت نے کہا کہ کیس کی دوبارہ سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔درخواست گزار گرو کرشن کمار کے وکیل وکرم بندوپادھیائے ، سدیپتا داس گپتا، دیویانی رائے نے اپنے دلائل میں کہا کہ مسلمانوں کے 41 گروپوں کو کس بنیاد پر دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے تحت لایا گیا ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے ۔ سروے کے بعد ہی سماجی ، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے اعتبار سے پسماندہ گروپ کو اوبی سی زمرے میں رکھا جاتا ہے ۔