کملاہیریس اور ٹرمپ عرب امریکی رائے دہندوں کی پہلی پسند نہیں:سروے

   

فلسطینیوں کی واضح حمایت کرنے والی گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین پہلے مقام پر
لندن: امریکی گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جِل اسٹین جو فلسطینیوں کے حقوق کی اپنی آواز کی حمایت کے لیے جانی جاتی ہیں، 5 نومبرکو ہونے والے امریکی انتخابات کے پیش نظر عرب امریکی ووٹروں میں سرفہرست امیدوار کے طور پر ابھری ہیں، حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق انہیں یہ حمایت ملی ہے۔ اسٹین تیسرے فریق کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، عرب امریکی نچلی سطح پر شہری حقوق کی سب سے بڑی تنظیم عرب امریکی انسداد امتیازی کمیٹی کے سروے میں 45 فیصد سے زیادہ عرب امریکیوں کی حمایت حاصل کرچکی ہیں۔اسٹین ایک طبیب اور ماہر ماحولیات، ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار، نائب صدرکملا ہیرس سے آگے ہے، جنھوں نے اسی پول میں 27.5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ سروے 27 اور 28 جولائی کے درمیان اے ڈی سی ، انسائیڈ ڈیٹا فار مولیٹیکو اور کمیونٹی پلس کے درمیان شراکت کے ذریعہ کیا گیا، جو پولنگ کے حل میں مہارت رکھتا ہے۔ اے ڈی سی کے نیشنل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عابد ایوب کے مطابق فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی وکالت اور اکتوبر سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے خلاف اس کی مخالفت کی وجہ سے عرب۔ امریکی ووٹر ڈیموگرافک تیزی سے اسٹین کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہاگرین پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر جِل اسٹین کی 45.3 فیصد پر مضبوط پولنگ، جو پچھلے سروے کی طرح ہے، کمیونٹی کی مستقل حمایت کو ظاہر کرتی ہے، جس کی بڑی وجہ فلسطینی انسانی حقوق کے بارے میں اْن کا واضح موقف ہے۔ مئی میں اے ڈی سی کے رائے عامہ کے آخری سروے کے بعد سے اسٹین عرب ووٹروں میں پسندیدہ رہی ہے، جہاں وہ 25 فیصد حمایت کے ساتھ آگے تھیں۔ اس کے مقابلے میں جولائی میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے والے صدر جو بائیڈن اور ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو بالترتیب 7 فیصد اور 2 فیصد ووٹ ملے۔ 2022 میں اس سال کے عرب کمیونٹی سروے میں امریکہ میں 2.2 ملین لوگوں نے عرب نسب رکھنے کی اطلاع دی۔ عرب امریکیوں کی اکثریت مقامی نژاد ہے اور امریکہ میں 85 فیصد عرب شہری ہیں۔ جہاں یہ کمیونٹی اپنی جڑیں ہر عرب ملک تک رکھتی ہے عرب امریکیوں کی اکثریت لبنان، مصر، شام، فلسطین اور عراق سے آبائی تعلق رکھتی ہے۔ عرب امریکی آبادی کے لحاظ سے سرفہرست چار ریاستیں کیلیفورنیا، فلوریڈا، منی سوٹا اور مشی گن ہیں۔ ایوب نے اپنی پوسٹ میں نوٹ کیا کہ عرب امریکیوں میں بائیڈن کی گرتی ہوئی مقبولیت غزہ میں اسرائیل کے مسلسل اقدامات کے لیے سبکدوش ہونے والے صدرکی کٹر حمایت کی وجہ سے ہے۔ اسرائیلی فوج نے7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں غزہ میں بمباری کی مہم شروع کی، جس کے دوران فلسطینی عسکریت پسند گروپ نے 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 39,500 سے تجاوز کرگئی ہے۔