کم عمری کی شادیوں پر روک لگانے میں معاون

   

: شادی مبارک کلیان لکشمی اسکیمات :
کورونا کے بعد لڑکیوں کے ترک تعلیم و کم عمر شادیوں میں اضافہ باعث تشویش

حیدرآباد۔29۔ستمبر(سیاست نیوز) ریاست میں کم عمر کی شادیو ںکی تعداد کو کم کرنے میں کلیان لکشمی اسکیم اور شادی مبارک بے حد معاون ثابت ہوئی ہیں لیکن کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد سے پیدا شدہ صورتحال تبدیل ہونے لگی ہے اور اسکولوں اور کالجس میں لڑکیوں کی ترک تعلیم کے علاوہ کم عمر میں شادیوں کے رجحان میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔سال 2019 میں ریاست تلنگانہ میں 35 ایسی لڑکیوں کی شادیاں ریکارڈ کی گئی تھیں جو کہ 18سال سے کم عمر میں کی گئی تھیں لیکن سال 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر 57 ہوچکی ہے۔ خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی تنظیموں کے ذمہ داروں کے مطابق کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کو موبائیل فون حوالہ کرنے کے علاوہ ان پر خصوصی توجہ نہ دیئے جانے کے سبب لڑکیوں کے تعلیمی معیار میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہ الکٹرانک آلات میں مصروفیت تلاش کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے بھی لڑکیوں کی کونسلنگ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ تعلیم میں دلچسپی لینی شروع کردیں۔ ذرائع کے مطابق 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کے لئے بعض والدین اپنے بچوں کے آدھار کارڈ میں تاریخ پیدائش تبدیل کروارہے ہیں تاکہ انہیں کسی بھی طرح کی قانونی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ علاوہ ازیں کلیان لکشمی اور شادی مبارک کی اسکیمات سے استفادہ کے لئے بھی لڑکیوں کے والدین کی جانب سے سن پیدائش میں تبدیلی کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں سال 2021کے دوران 57 کم عمر لڑکیوں کی شادی کے بعد ریاست تلنگانہ ملک بھر کی ریاستوں کی فہرست میں 12ویں نمبر پر ہے۔م