کنویں اورتالاب والی 100 سال سے زیادہ پرانی مساجد کے سروے کا مطالبہ‘ سپریم کورٹ میں درخواست

   

نئی دہلی : سپریم کورٹ میں عرضی عبادت کے مقامات (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کے سیکشنز کی درستگی کو چیلنج کرتے ہوئے ایک درخواست دائر کی گئی ہے ۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں ہندوستان میں سو سال سے زیادہ پرانی اور کنویں اور تالاب والی تمام قدیم اور ممتاز مساجد کے بارے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی طرف سے خفیہ سروے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ مفاد عامہ کی درخواست میں سو سال سے زیادہ پرانی مساجد میں تالابوں اور کنوؤں سے وضو (یہ اسلامی طریقہ کار ہے، مسلمان نماز ادا کرنے سے پہلے جسم کے اعضاء کو دھوتے ہیں) کو نلکے یا جدید میں منتقل کرنے کے لیے ہدایات مانگی ہیں۔ اس وقت تک ایک خفیہ سروے مکمل کیا جا سکتا تھا تاکہ اگر کوئی آثار ملے تو غیر ضروری فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے بچا جا سکے۔درخواست ایڈوکیٹ وویک نارائن شرما کے ذریعہ ایڈوکیٹ شوبھم اوستھی اور سپتا رشی مشرا کے ذریعہ دائر کی گئی ہے اور متنازعہ جائیدادوں کو کسی بھی فریق یا ان کی مداخلت سے پاک رکھنے کے لئے رہنما خطوط اور ہدایات جاری کرنے کی ہدایت بھی مانگی گئی ہے، اس وقت تک ایک تفصیلی خفیہ سروے کیا جاسکتا ہے۔