مالکین پر قرض کا بوجھ، ہزاروں مزدوروں بیروزگار
حیدرآباد: کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں ٹفن اور فاسٹ فوڈ سنٹرس پر اس کا بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے جہاں چھوٹے کاروبار کے مالکین قرض کے بوجھ سے پریشان ہیں وہیں ہزاروں ماسٹرس اور مزدور بیروزگار ہوگئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ لاکھوں روپئے کا کاروبار متاثر ہوگیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے ہر محلے اور بستیوں میں ٹفن اور فاسٹ فوڈ سنٹرس پر سورج کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک اور رات دیر گئے یہ ٹفن سنٹرس عوام سے کھچاکھچ بھرے رہا کرتے تھے۔ شہر حیدرآباد کے بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز ہو یا پرانے شہر کے گلی کوچوں میں ٹفن سنٹرس اور فاسٹ فوڈ سنٹرس بڑی تعداد میں پائی جاتے ہیں۔ فٹ پاتھ کا یہ کاروبار تقریباً 18 گھنٹے خدمات انجام دیتا تھا۔ محلے بستیوں کے ٹفن سنٹرس پر عام لوگوں کے ساتھ مزدور پیشہ افراد صبح ناشتہ کرکے اپنے اپنے کاموں سے رجوع ہوتے تھے۔ وہی آئی ٹی سیکٹر میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنلس بھی اپنی شفٹوں پر مشتمل ڈیوٹی کے دوران ان ٹفن اور فاسٹ فوڈ سنٹرس پر انحصار کیا کرتے تھے۔ کورونا کی وجہ سے بیشتر آئی ٹی کمپنیاں ورک فرم ہوم کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے آئی ٹی پروفیشنلس گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعمیری و دیگر سرگرمیاں متاثر ہونے سے دوسری ریاستوں سے فاسٹ فوڈ تیار کرنے والے ماسٹرس کے ساتھ مزدور اپنی اپنی ریاستوں کے علاوہ اپنے اپنے آبائی مواضعات کو منتقل ہوچکے ہیں۔ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والے زیادہ تر افراد قرضوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے مالیاتی کاروبار ٹھپ ہوچکی ہیں۔ قرض کی ادائیگی تو ممکن نہیں مگر ان پر سود کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے جس سے چھوٹے کاروبار کے مالکین بہت زیادہ پریشان ہیں۔