کورونا علاج کی اہم دوائی کی قیمت میں عنقریب کمی

,

   

مزید کمپنیوں کو تیاری کی اجازت، دوائی کی زائد قیمت پر فروخت کی شکایت
حیدرآباد۔ کورونا کے مریضوں کیلئے علاج کے طور پر استعمال ہونے والی اہم دوائی
Remdesivir
کی قیمت میں توقع ہے کہ بہت جلد کمی واقع ہوگی کیونکہ مزید فارما کمپنیوں کو اس دوائی کی تیاری کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فیصلہ سے کورونا کی اہم دوا سستی ہوسکتی ہے جو ان دنوں نہ صرف مہنگی ہے بلکہ اس کی بلیک مارکیٹنگ کی جارہی ہے۔ اینٹی وائرل یہ دوائی کا کورونا کے کیسس میں اضافہ کے بعد سے ڈاکٹرس کی جانب سے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور دوائی کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے جس کا فائدہ اٹھاکر بعض دکاندار زائد قیمت پر فروخت کررہے ہیں۔ اس دوائی کی تیاری فی الوقت دو فارما کمپنیاں کررہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دوائی کی قلت کے نتیجہ میں مریضوں سے تین تا چار گنا زائد قیمت وصول کی جارہی ہے۔ حیدرآباد میں واقع ہیتھرو ڈرگس یہ دوائی
Covifor
کے نام سے تیار کررہا ہے جبکہ سپلا کمپنی یہ دوائی مریضوں کو سربراہ کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر مہاراشٹرا میں اس دوائی کی سربراہی ہے۔ ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد تیار کردہ ویاکسن میں صرف 24ہزار تلنگانہ میں فروخت کئے گئے جبکہ باقی دیگر ریاستوں کو سربراہ کئے گئے ہیں۔ ڈرگس کنٹرول ایڈمنسٹریشن کے ڈائرکٹر نے یہ انکشاف کیا۔ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا کی جانب سے
Mylan
کمپنی کو دوائی کی تیاری اور مارکیٹنگ کی اجازت حاصل ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ ہفتہ سے تیاری کا آغاز ہوگا۔ اگرچہ کمپنی کا پلانٹ تلنگانہ کے باہر ہے لیکن خام مال تلنگانہ میں تیار کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد کی ایک اور کمپنی ڈاکٹر ریڈیز لیباریٹری کو دوائی کے نتائج پر ٹسٹ کی اجازت دی گئی ہے۔ ٹسٹ کی تکمیل کے بعد کمپنی دوا کی تیاری شروع کرے گی۔ حکومت اینٹی وائرل دوائی کی تیاری کے سلسلہ میں بعض دیگر کمپنیوں کو اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔ اگر یہ کمپنیاں حکومت کو پیشکش کرتی ہیں تو انہیں اجازت دی جاسکتی ہے۔