آندھرا پردیش و دیگر ریاستوں کی مثال کے باوجود ٹال مٹول کی پالیسی پر تنقیدیں
حیدرآباد۔کورونا وائرس کے مریضوں کو سہولتوں کی فراہمی میں حکومت کی ناکامی کے علاوہ طبی سہولتوں کو ہر گوشہ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ مصدقہ مریضوں کی شناخت اور علاج کیلئے بہتر سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ حکومت اپنی نمایاں کارکردگی کو ثابت کرسکتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے خوف سے کم تعداد کے ساتھ بہتر کارکردگی کو ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو شہریوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں بالخصوص دہلی ‘ مہاراشٹرا کے علاوہ کیرالا میں زیادہ سے زیادہ معائنوں اور علاج کیلئے سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ محکمہ صحت کی کارکردگی کو بہتر ثابت کیا جا رہاہے اور پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے خوف کے بجائے تصدیق پر بہتر سہولتوں کی فراہمی اور فوت ہونے پر تجہیز و تکفین کیلئے اخراجات کی ادائیگی کے ذریعہ یہ ثابت کیا جا رہاہے کہ حکومت کورونا مریضوں کو یکا و تنہاء کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ وہ مریضوں کے ساتھ کھڑی ہے
اور ان کی دیکھ بحال کے علاوہ اگر وہ اس بیماری کی وجہ سے فوت ہوتے ہیں تو ان کے غم میں بھی برابر کی شریک ہے۔ حکومت تلنگانہ اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے تلنگانہ میں معائنوں کو تیز کرتے ہوئے مریضوں کی نشاندہی کے بجائے اب تک تعداد میں کمی ظاہر کر رہی تھی لیکن اب معائنوں میں اضافہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوتی جار ہی ہے اس صورتحال پر بھی قابو پانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں مگر کورونا مریضوں کو یکا و تنہاء کرنے کے معاملہ میں تلنگانہ سب سے آگے ہے کیونکہ ان مریضوں کو دواخانوں میں بستروں کے حصول میں آنے والی دشواریاں اور سرکاری دواخانوں کی صورتحال نے گھروں میں رہتے ہوئے علاج کو یقینی بنانے کیلئے مجبور کردیا ہے ۔
تلنگانہ میں
حکومت کی جانب سے کوروناو ائرس کے مریضوں کی بہتر نگہداشت کیلئے جو اقدامات کی ضرورت ہے وہ نہ کئے جانے کے سبب ملک بھر میں ریاست کی شبیہہ متاثرہونے لگی ہے اور مختلف ریاستوں میں جہاں تلنگانہ کی تعریف کی جاتی تھی اب حیرت کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔