کورونا وائرس سے تلنگانہ محفوظ ، کوئی مریض نہیں

   

عوام تشویش کا شکار نہ ہوں ، ڈاکٹر بی رویندر نائک ڈائرکٹر صحت عامہ کا بیان
حیدرآباد۔21۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا وائرس کا ایک بھی مریض نہیں ہے اور ریاست محفوظ زون میں ہے۔ملک بھر میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی نشاندہی کے دوران پائی جانے والی تشویش پر ڈاکٹر بی رویندر نائک ڈائریکٹر صحت عامہ نے یہ بات کہی۔انہوں نے بتایا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے مریضوں کے سبب تشویش میں مبتلاء ہونے کی فوری طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تلنگانہ میں کوئی کورونا وائرس کی تاحال نشاندہی نہیں ہوئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے تمام اضلاع اور سرکاری دواخانوں کے علاوہ دیگر خانگی دواخانوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کورونا وائرس کے مریضوں کی نشاندہی کی صورت میں ان کے علاج کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ ڈاکٹر بی رویندر نائک نے مزید بتایا کہ فی الحال محکمہ کی جانب سے موسمی وبائی امراض پر قابو پانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ یوم تک بھی محکمہ صحت کی جانب سے گرمی اور لو لگنے کے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں اور اب فوری طور پر محکمہ کی جانب سے موسمی تبدیلی کے دوران پھوٹ پڑنے والی بیماریوں پر توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے۔ڈاکٹر بی رویندر نائک نے کہا کہ کورونا وائرس سے اب پریشان ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ گذشتہ برسوں کے دوران محکمہ صحت اور عوام نے کورونا وائرس کے متعلق کافی معلوما ت حاصل کی ہیں اور اب کورونا وائرس کوئی عالمی وباء کی شکل اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ وائرس اب تیزی سے ختم ہونے جا رہاہے۔ اگر اب کوئی کورونا وائر سے متاثر بھی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اسے محض معمولی کھانسی ‘ بخار‘ نزلہ کی شکایات کا سامنا کرنا پڑے گا اور سانس لینے میں تکلیف جیسی کوئی صورتحال کا مریض کو سامنا نہیں ہوگا۔ اب جبکہ ریاست میں موسم کی تبدیلی ریکارڈ کی جا رہی ہے ایسی صورت میں کئی وبائی امراض کا پھیلاؤ شروع ہونے لگتا ہے اور اس دوران ملیریا کے علاوہ دیگر امراض کے شکار مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اسی لئے محکمہ صحت کی جانب سے ممکنہ حد تک عوام میں موسمی تبدیلی کے دوران شروع ہونے والی وبائی امراض کے متعلق شعور بیدار کرنے کے علاوہ ان کے علاج و معالجہ پر توجہ مرکوز کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی قوی توقع ہے ۔3