کورونا کے مریضوں کی آزادانہ نقل و حرکت محکمہ صحت کیلئے چیالنج

,

   

سماج میں امتیازی سلوک کا خوف، مرض کو پوشیدہ رکھنے سے دوسروں میں پھیلنے کا خطرہ
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں اہم رکاوٹ کورونا کے مریض ہیں جو ابتدائی علامات کے باوجود ہوم کورنٹائن رہنے کی بجائے بازاروں میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ہوم کورنٹائن اور آئسولیشن کئے گئے بیشتر مریض گھروں تک محدود رہنے کی بجائے گھوم رہے ہیں۔ بلدیہ کی جانب سے کئی علاقوں میں کنٹینمنٹ زون قائم کرکے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن یہاں قواعد کی خلاف ورزیاں کھلے عام جاری ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں بھی کورونا علامات رکھنے والوں کی کھلے عام سرگرمیاں مرض میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بیشتر مریض معمولی علامات کے حامل ہیں یا ان میں کوئی علامت نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر اور فیلڈ لیول نگرانکار عہدیدار ایسے مریضوں کی صحت پر مسلسل نگرانی رکھے ہوئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت کم مریض اپنے مکانات میں پائے گئے جبکہ دوسرے اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ ریاست میں 12000 سے زائد کورونا مریضوں کو ہوم آئسولیشن یا کورنٹائن میں رکھا گیا ہے ۔ ان میں سے 80 فیصد کا تعلق گریٹر حیدرآباد، رنگاریڈی و میڑچل سے ہے۔معمولی علامات یا علامات کے بغیر وائرس سے متاثرہ افراد کو کم از کم 17 دنوں تک آئسولیشن میں رہنا ہے۔ 17 دن بعد وائرس کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ایسے میں وہ دوسروں تک وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بیشتر معاملات میں کورونا پازیٹیو پائے گئے افراد اپنی کالونی، اپارٹمنٹ یا گھر کا پتہ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ سماج میں کورونا سے متاثرہ افراد کو جس نظریہ سے دیکھا جارہا ہے اس نے مریضوں میں خوف اور تنہائی کا احساس پیدا کردیا ہے

جس کے نتیجہ میں وہ مرض کو ظاہر کئے بغیر عوام کے درمیان گھوم رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس طرح کے مریضوں کا برسر عام گھومنا دراصل سماج میں علحدگی کے خطرہ کے باعث ہے انہیں کورونا کی صورت میں امتیازی سلوک کا اندیشہ ہے جس کے نتیجہ میں وہ علامات کو چھپارہے ہیں۔ ڈاکٹرس نے کورونا سے متاثرہ افراد کو ہوم آئسولیشن میں رکھتے ہوئے ان کیلئے علحدہ برتن، ٹائیلٹ اور دیگر سہولتوں کا مشورہ دیا ہے جسکے نتیجہ میں متاثرہ افراد خود کو اچھوت محسوس کررہے ہیں۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ سردی، کھانسی، ذائقہ سے محرومی، خوشبو یا بدبو میں تمیز کا خاتمہ جیسی علامات والے افراد کا گھومنا دوسروں کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ بعض ایسے مریض ہیں جن میں بظاہر کوئی علامات نہیں ہوتیں لیکن ان سے قربت وائرس کا شکار کرسکتی ہے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت جی سرینواس راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سردی ، بخار، سانس میں تکلیف، کھانسی، گلے میں درد ، سردرد و اعضاء شکنی پر فوری ٹسٹ کروائیں۔ حکومت کی جانب سے پرائمری ہیلت سنٹر میں ٹسٹ کی سہولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو ماسک کے بغیر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیئے۔