رسل اورر نکو کے خلاف اشون اور چہل کا ٹکراؤ اہم
کولکتہ۔ ایک پھر سے اپنی دعویداری پیش کرنے والی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز اپنی بقا کی لڑائی میں لگاتار تیسری جیت کی تلاش میں ہوگی جب وہ جمعرات کو یہاں آئی پی ایل میں جدوجہد کرنے والی راجستھان رائلزکا سامنا کرے گی۔ لازمی جیتنے والے منظرناموں کا سامنا کرتے ہوئے دو بارکے چمپئنز نے سن رائزرز حیدرآباد اور پنجاب کنگز کے خلاف اپنی جیت کے بعد اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے زبردست لچک دکھائی ہے ، دونوں ہی مقابلے آخری گیند پر ڈرامائی انداز میں ختم ہوئے۔ جیتنے سے نہ صرف ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں بلکہ ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں سے چھٹے نمبر پر پہنچی ہے ۔ کے کے آر اور راجستھان رائلز سمیت چار ٹیمیں، پلے آف کے لیے درمیانی جدول میں 10 پوائنٹس پر موجود ہیں۔ راجستھان نیٹ رن ریٹ پر آگے ہو سکتا ہے لیکن اگرکے کے آر اپنی جیت کی دوڑ جاری رکھے تو یہ مساوات تیزی سے بدل سکتے ہیں ، کیونکہ کامیابی انہیں ٹاپ فور میں لے جائے گی۔ جب کہ کے کے آر دو سنسنی خیز فتوحات کے بعد پراعتماد ہے، رائلز پچھلے سیزن کی رنرز اپ تین شکستوں کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہوگی۔ رائلز نے 200 سے زیادہ کا اسکور درج کیا تھا لیکن کچھ حیران کن حکمت عملیوں کے ذریعے ان کے تین مقابلوں میں سے دو میں شکست ہوئی، جس کی وجہ سے ان کے لیے بھی جیتنا ضروری ہے۔کلیدی مقابلوں اور ٹیم کی حکمت عملی کے لحاظ سے کے کے آر ایک بار پھر ورون چکرورتی پر بھروسہ کرے گا، جو اپنی پچھلی دونوں جیتوں میں مرکزی کردار رہے ہیں۔حیدرآباد کے خلاف آخری اوور میں نو رنزکا دفاع کرنے کے بعد چکرورتی کے 3/26 نے پنجاب کنگز کے خلاف تمام فرق پیدا کیا۔ ایسے وقت میں جب ان کے تجربہ کار اسپنر سنیل نارائن کے لیے وکٹیں حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے، چکرورتی اس سیزن میں اب تک 17 وکٹوں کے ساتھ ٹیم کے اہم اسپنر کے طور پر ابھرے ہیں ۔ جبکہ کے کے آر کے تھنک ٹینک نے نارائن کو باہر کرنے کے موڈ میں نہیں ہے جس کے پاس آخری آٹھ میچوں میں صرف ایک وکٹ ہے، یہ چکرورتی کے چار اوور ہیں جو پھر سے اہم ہوں گے۔کے کے آر ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے پنجاب کے خلاف ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں جانے والے شاردول ٹھاکر کی بولنگ نہ کرنے کی وجہ سے تیز رفتار بولنگ شعبہ تجربہ میں بری طرح سے کم نظر آیا۔اگر رنکو سنگھ اور آندرے رسل کی برق رفتار بیٹنگ نہ ہوتی تو ویبھو اروڑہ اور ہرشیت رانا کی جوڑی پی بی کے ایس کے خلاف آخری دو اوورز میں 36 رنز دینے کے بعد تقریباً میچ ہار چکی تھی۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا کے کے آر دوبارہ فٹ شاردول کی خدمات کا استعمال کرتا ہے۔ یشسوی جیسوال، جوس بٹلر اور سنجو سیمسن جیسے بیٹرس سے بھرے رائلز کے خلاف، کے کے آر کو امید ہے کہ ان کے بولنگ پر ہوگی۔ جہاں کے کے آر کو فاسٹ بولنگ شعبے میں خلا کو پورا کرنے کی ضرورت ہے، رائلز کو اپنی بولنگ حکمت عملی پر ایک نئی نظر ڈالنی چاہیے۔ حیدرآباد کے خلاف 214 کا دفاع کرتے ہوئے، رائلزکا اوبید میک کوئے کے بجائے کلدیپ یادیو کو آخری اوور دینے کا فیصلہ الٹا ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے 24 رنز دیے۔ پی بی کے ایس کے خلاف اپنی جیت میں کے کے آر کے لیے سب سے بڑا مثبت پہلو آندرے رسل (23 گیندوں پر 42 رنز) کی فارم میں واپسی ہے۔ جمیکاکے کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور خاص کر انہوں نے 20 رنزکے آخری اوور میں سیم کرن کو تین چھکے لگائے ۔ کپتان نتیش رانا کے کے آر کی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہیں رنکوکا فنشر کے طور پر ابھرنا ٹیم کے لیے اچھا ثابت ہو رہا ہے۔ رائلز کے نقطہ نظر سے رانا، رنکو اور رسل کی تینوں ان کے لیے اصل خطرہ ہوں گے۔ درمیانی اوورز میں رائلز کے اسپن اسٹار روی چندرن اشون اور یوزویندر چہل کے خلاف ان کی لڑائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔