کویتا کا مکتوب پارٹی کا داخلی معاملہ ‘ برسر عام تبصرہ سے گریز

   

بی آر ایس میں کوئی بھی صدرکو مکتوب روانہ کرسکتا ہے۔ کے ٹی آر کا رد عمل
حیدرآباد۔24۔مئی ۔ (سیاست نیوز) اپوزیشن بی آر ایس میں ہلچل پیدا کرنے والے رکن کونسل کویتا کے مکتوب اور تبصروں پر کارگذار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ نے اسے غیر اہم قرار دینے کی کوشش کی اور کہا کہ پارٹی کے داخلی معاملات پر برسرعام رائے دینا درست نہیں ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ بی آر ایس میں جمہوریت اور اظہار خیال کی آزادی کا یہ ثبوت ہے کہ کوئی بھی صدر بی آر ایس کو مکتوب روانہ کرسکتا ہے اور اپنی رائے پیش کرسکتا ہے۔ کے ٹی آر نے کے کویتا کے تبصرہ جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد کے آس پاس کچھ شیاطین اور سازشی عناصر ہیں کے متعلق دریافت کرنے پر کہا کہ یہ معاملہ داخلی ہے اس پر وہ برسرعام اظہار کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارٹی کی نظر میں تمام کارکن ہیں اور ہر کارکن کا پارٹی کے پاس یکساں مقام ہے اسی لئے کسی کارکن کی کم یا زیادہ اہمیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ کویتا کا پارٹی صدر کو مکتوب کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پارٹی کے کئی قائدین چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرکے اپنی رائے اور صورتحال سے واقف کرواتے اور تجاویز روانہ کرتے ہیں اور اس عمل سے بیشتر تمام قائدین واقف ہیں۔3