اہم قائدین کیساتھ ٹیلی کانفرنس ، 28 مئی کو امریکہ روانگی ، یکم جون کوڈلاس میں خطاب
حیدرآباد۔ 26 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ صدر کے تارک راما راؤ نے پارٹی قائدین سے ٹیلی کانفرنس کرکے کویتا کے مکتوب پر کسی کو بھی بات نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ کل کے ٹی آر نے فارم ہاؤز پہنچ کر کے سی آر سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی تھی جس کے بعد کے ٹی آر نے پارٹی اہم قائدین کو یہ مشورہ دیا۔ بتایا گیا کہ کے سی آر کی ہدایت پر کے ٹی آر نے پارٹی قائدین سے فون پر بات کی ہے۔ کویتا کی جانب سے کے سی آر کو بھگوان اور ان کے اطراف رہنے والوں کو شیطان قرار دینے کے بعد پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اس پر بحث ہوچکی ہے اور کئی قائدین جنہیں پارٹی میں نظرانداز کردیا گیا ، وہ کویتا کی تائید کررہے ہیں۔ کویتا کے حامیوں کی جانب سے سوشیل میڈیا پر مہم چلائی جارہی ہے جس پر کے سی آر نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کے ٹی آر نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ اس مسئلہ کو مزید طول دینے سے پارٹی کیڈر میں بے چینی اور غیریقینی صورتحال پیدا ہوجائے گی جس سے پارٹی کو نقصان ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ اس مسئلہ کو پارٹی صدر کے سی آر پر چھوڑ دیا جائے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس میں جمہوریت ہے، کوئی بھی قائد پارٹی کے صدر کو مکتوب لکھ سکتا ہے۔ اس پر دیگر قائدین لب کشائی سے گریز کریں۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ کے سی آر نے اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے پارٹی کو تنظیمی سطح پر مضبوط بنانے کی کے ٹی آر کو ہدایت دی۔بی آر ایس کارگزار صدر کے ٹی آر امریکہ کے ڈلاس میں یکم جون کو پارٹی کی سلور جوبلی جلسہ میں شرکت کیلئے 28 مئی کو امریکہ روانہ ہورہے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ کے ٹی آر نے امریکہ میں تقاریر کے تعلق سے بھی کے سی آر سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ ساتھ ہی2 جون یعنی تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر بی آر ایس پروگرامس و پارٹی ہیڈکوارٹرس تلنگانہ بھون میں پروگراموں پر بھی بات چیت ہوئی۔2