کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کی وبا صحتمند معاشرہ داؤ پر

   

ہوٹلوں میں چھاپے جانچ کے چونکا دینے والے اعدادوشمار کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 20 جون (سیاست نیوز) ہم آج جو کھانا کھارہے ہیں اور جو پانی پی رہے ہیں وہ سب آلودہ اور ملاوٹ زدہ ہوچکا ہے۔ طبی ماہرین اور ڈاکٹرس نے انتباہ دیا ہیکہ اگر ہم نے خود کو ملاوٹ کی اس ہولناک وبا سے محفوظ نہیں رکھا تو وہ دن دور نہیں جب محض چار سال کی عمر میں ہی بچوں کو شدید بیماریوں کے باعث ہاسپٹلس میں شریک کروانا یقینی ہوجائے گا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حکام کی جانب سے ہوٹلوں میں کئے گئے معائنوں کے اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ سال 2025ء میں 9806 ہوٹلوں کے معائنے کئے گئے۔ 3500 کھانے کے نمونے لیاب ٹسٹ کیلئے بھیجے گئے جس میں 450 نمونوں میں واضح ملاوٹ پائی گئی۔ ان میں 25 نمونے انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصاندہ ثابت ہوئے۔ شہر کی چند ہوٹلیں عوام کی پسندیدہ غذاؤں جیسے بریانی، چکن 65، کباب، تندوری چکن، منچورین اور فرائیڈرائس کو پرکشش بنانے کیلئے ضرورت سے زیادہ ممنوعہ اور مصنوعی کیمیکل رنگوں کا استعمال کررہے ہیں۔ دودھ اور پنیر میں ملاوٹ کئی مراحل میں کی جاتی ہے۔ پتلے دودھ کو گاڑھانے کرنے کیلئے دلیہ اور میدہ ملایا جاتا ہے۔ پانی ملانے سے کم ہونے والی پروٹین کی مقدار چھپانے کیلئے اس میں یوریا ڈالا جاتا ہے۔ مسالوں اور دالوں میں سرخ پاؤڈر میں اینٹوںکا چورا، لدی میں میٹرازائن نامی پیلا کیمیکل ملایا جارہا ہے۔ دھنیا، الائچی اور دارچینی کو بھی مصنوعی رنگوں میں ڈبویا جاتا ہے۔ مارکٹ میں خالص شہید کے نام پر شکر اور گڑ کا شربت فروخت کیا جارہا ہے۔2