محمد علی شبیر کا اعلان ، سرکاری مشنری اور عوامی فنڈس کے بیجا استعمال کا الزام
حیدرآباد۔20۔ جنوری (سیاست نیوز) کانگریس قائد اور سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کھمم میں بی آر ایس کے جلسہ عام پر بھاری رقومات کے خرچ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی طاقت کے مظاہرہ کیلئے عوامی رقومات کا بے جا استعمال کیا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے اپوزیشن قائدین کو مطمئن کرنے کیلئے کھمم کا جلسہ عام منعقد کیا تھا۔ چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ انتظامات پر پارٹی فنڈ خرچ کرتے لیکن انہوں نے سرکاری فنڈ کا استعمال کیا اور مختلف محکمہ جات کو جلسہ کی کامیابی کے لئے مشغول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جلسہ عام کے علاوہ تین چیف منسٹرس اور ایک سابق چیف منسٹر کو کلکٹریٹ کے افتتاح اور آنکھوں کی روشنی پروگرام کے آغاز میں مدعو کرتے ہوئے کے سی آر نے عوامی رقومات کا بے دریغ خرچ کیا ہے۔ اپنی اور حکومت کی تشہیر کے لئے چیف منسٹر سرکاری مشنری کا استعمال کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس پارٹی کھمم جلسہ عام کے اخراجات پر تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی اور گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کو یادداشت پیش کی جائے گی۔ کانگریس پارٹی جلسہ عام کے اخراجات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا جلسہ عام فلاپ شو ثابت ہوا۔ اور بھاری رقومات کے خرچ کے باوجود توقع کے مطابق عوام شریک نہیں ہوئے۔ حکومت پانچ لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ حقیقی تعداد ایک لاکھ بھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے قومی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران کے سی آر آندھرائی عوام کے خلاف بیانات دے رہے تھے لیکن آج وہ آندھرائی قائدین کو بی آر ایس میں شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش سے جن امور پر اختلاف تھا ، اس بارے میں کے سی آر کو وضاحت کرنی چاہئے۔ تلنگانہ ریاست پانچ لاکھ کروڑ کے قرض میں مبتلا ہے لیکن حکومت کو فلاحی اسکیمات سے زیادہ تشہیر کی فکر ہے۔حکومت عوام پر برقی بلز کا اضافی بوجھ عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ر