نئی دہلی : مانسون کا انتظار ختم ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون نے ملک میں دستک دے دی ہے۔ محکمہ نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔ محکمہ نے ٹویٹ کیا کہ عام طور پر جنوب مغربی مانسون ملک میں یکم جون کو آتا ہے، لیکن اس مرتبہ اس نے 29 مئی کو ہی دستک دیدی ہے۔ اس طرح یہ اپنی عام تاریخ سے تین دن پہلے کیرالا پہنچ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پندہ دن پہلے بنگال کی خلیج میں آئے طوفان آسانی کی بنیاد پر پیشن گوئی کی تھی کہ اس بار جنوب مغربی مانسون 27 مئی تک کیرالا کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ لیکن اس کی آمد میں دو دن کی تاخیر ہوئی۔ پھر بھی یہ عام طور پر ہونے والی مانسون کی آمد سے تین دن پہلے آگیا ہے۔کسانوں سے لے کر حکومت تک، سبھی کو مانسون کی آمد کا انتظار رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ملک کی تقریباً 65 فیصد زراعت کا انحصار مانسون کی بارشوں پر ہے، جہاں آبپاشی کے ذرائع موجود ہیں، وہاں بھی مانسون کی بارش ضروری ہوتی ہے۔ ناکافی بارش کے باعث دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ اس مرتبہ ملک کو اس لئے بھی مانسون کا بھی بے صبری سے انتظار ہے کیونکہ ماقبل مانسون بارشیں توقع سے بہت کم ہوئی ہیں۔ملک کے شمال مغربی علاقوں میں 66 فیصد تک کم بارش ہوئی، وسطی ہندوستان میں یہ تعداد 39 فیصد رہی تھی۔ اس مرتبہ گرمی نے بھی وقت سے بہت پہلے اپنا تیور دکھانا شروع کر دیا تھا ، جس کی وجہ سے مارچ سے ہی لو چلنی شروع ہو گئی تھی۔ اس مرتبہ مارچ میں اتنی گرمی پڑی کہ 122 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اتنی گرمی کی وجہ سے فصلیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔