اپوزیشن کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کا بیجا استعمال، دہلی میں انتقامی کارروائی کے تحت منیش سیسوڈیا کی گرفتاری، وفاقی نظام کو خطرہ لاحق
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملک کے تین چیف منسٹرس اور دیگر اپوزیشن قائدین کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو مشترکہ مکتوب روانہ کیا۔ دہلی کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کی گرفتاری کے پس منظر میں مکتوب روانہ کرتے ہوئے کے سی آر اور دیگر اپوزیشن قائدین نے مرکز پر تحقیقاتی ایجنسیوں کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا۔ مکتوب پر دستخط کرنے والوں میں کے سی آر کے علاوہ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی، چیف منسٹر نئی دہلی اروند کجریوال، چیف منسٹر پنجاب بھگونت مان، آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو، جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ، این سی پی سربراہ شرد یادو، شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو شامل ہیں۔ مکتوب میں اپوزیشن قائدین نے اپوزیشن کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کے استعمال پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ ملک جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ کی طرف منتقل ہوچکا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی نے کسی ثبوت کے بغیر ہی طویل تعاقب کے بعد منیش سیسوڈیا کو گرفتار کیا۔ منیش سیسوڈیا کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور سیاسی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کی گرفتاری سے ملک کے عوام میں بے چینی اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ منیش سیسوڈیا دہلی کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے معاملہ میں عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی گرفتاری سے دنیا بھر میں یہ پیام گیا ہے کہ سیاسی مقصد براری کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور ہندوستان کے جمہوری اقدار کو بی جے پی دور حکومت میں خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مکتوب میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنانے کی کئی مثالیں پیش کی گئیں اور کہا گیا ہے کہ بی جے پی قائدین اور زعفرانی جماعت کی تائید کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ مکتوب میں2014 سے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے سیاسی قائدین کے خلاف مقدمات، دھاوے، گرفتاریوں اور پوچھ تاچھ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان میں سے زیادہ تر اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپوزیشن قائدین نے حیرت کا اظہار کیا کہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے اپوزیشن قائدین کے مقدمات میں تحقیقاتی ایجنسیاں سست ہوچکی ہیں۔ آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما جو سابق میں کانگریس کے رکن تھے ان کے خلاف 2014 اور 2015 میں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے شاردا چٹ فنڈ اسکام معاملہ میں تحقیقات کی تھی لیکن بی جے پی میں شمولیت کے بعد مقدمات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ مکتوب میں ترنمول کانگریس کے سابق قائدین سویندھو ادھیکاری اور مکل رائے کا حوالہ دیا گیا جو ناردا اسٹنگ آپریشن کیس میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کے نشانہ پر تھے لیکن بی جے پی میں شمولیت کے بعد کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ مہاراشٹرا میں نارائن رانے کیس کی مثال پیش کی گئی۔ 2014 سے اپوزیشن قائدین کے خلاف دھاوؤں اور مقدمات میں اضافہ ہوا ہے جن میں لالو پرساد یادو، سنجے راوت، اعظم خاں، نواب ملک، انیل دیشمکھ اور ابھیشک بنرجی شامل ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا کہ زیادہ تر معاملات میں مقدمات و گرفتاریاں انتخابات کے قریب عمل میں آئیں جو صاف طور پر سیاسی مقصد براری پر مبنی ہے۔ اپوزیشن قائدین نے ملک میں بعض ریاستوں کے گورنرس کے رول کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو، مہاراشٹرا، مغربی بنگال، پنجاب ، تلنگانہ کے گورنرس اور دہلی کے لیفٹننٹ گورنر عوامی منتخب حکومتوں کے خلاف کام کررہے ہیں۔ مرکز اور ریاست کے درمیان خلیج میں اضافہ کرتے ہوئے وفاقی باہمی تعاون کو خطرہ بن چکے ہیں۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور گورنر جیسے دستوری عہدوں کے بیجا استعمال کے ذریعہ سیاسی انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں جس کے نتیجہ میں تحقیقاتی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے۔مکتوب کے آخر میں کہا گیا کہ جمہوریت میں عوام کی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے اور عوام کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کا احترام ہونا چاہیئے بھلے ہی وہ کسی پارٹی کے نظریات کے خلاف کیوں نہ ہو۔ر