کے سی آر اینڈ کمپنی نے تلنگانہ کے آبپاشی شعبہ کو تباہ کردیا: اتم کمار ریڈی

   

کسانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے عوامی تائید
حاصل کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔ 24 اکتوبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے سابق چیف منسٹر کے سی آر اور بی آر ایس قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ریاست کے آبپاشی شعبہ کو تباہ و برباد کردیا۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کا کنے پلی پمپ ہاوز کا دورہ صرف ایک سیاسی ڈرامہ ہے جس کا مقصد خود اپنے بنائے ہوئے اور تباہ کئے ہوئے پراجکٹ کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کالیشورم اور میڈی گڈہ بیاریج کی تباہی پر بی آر ایس کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ اور میڈی گڈہ کے بلاکس ناقص معیار اور انجینئرنگ کی سنگین غلطیوں کے باعث زمین دوز ہوئے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے الزام لگایا کہ کرپشن اور کمیشن کے لالچ کی وجہ سے اصل پراہیتا اور چیوڑلہ پراجکٹ کو ری ڈیزائن کرکے میڈی گڈہ منتقل کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جو پراجکٹ 16.5 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے لئے 38 ہزار کروڑ روپے میں تیار ہونا تھا اس کا تخمینہ بلاوجہ بڑھاکر 1.5 کروڑ روپے تک پہنچا دیا گیا اور عوامی خزانہ کو لوٹا گیا۔ اتم کمار ریڈی نے موسمیاتی تبدیلیوں اور کسانوں کی مشکلات کا ذمہ دار بھی پچھلی حکومت کی انتظامی نااہلی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ایل نینو کے اثرات کی وجہ سے ناصرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی اکتوبر کے دوران بارش نہیں ہوئی۔ اگر بی آر ایس حکومت 10 سال میں لئے گئے لاکھوں کروڑوں روپے کے قرضوں کو صحیح اور ایماندارانہ طریقہ سے آبپاشی کے ڈھانچہ پر خرچ کیا ہوتا تو آج ایل نینو اور خشک سالی کے باوجود تلنگانہ کے کسانوں کو پانی کی اتنی شدید قلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تباہی کا سبب بننے والی بی آر ایس کے قائدین اب مظلوم بن کر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مثال بن گئی ہے۔ 2؍F