کے سی آر خاندان والوں کے اخبارات کو 332 کروڑ روپئے کے اشتہارات

   

سابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر عہدہ کے غلط استعمال کا الزام ۔ ویجلنس انکوائری کا امکان
حیدرآباد ۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ نے مبینہ طور پر ان کے عہدہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے 2014 تا 2023ء کے درمیان 332 کروڑ روپئے کے عوامی فنڈس کو مبینہ طور پر ان کے خاندان کی ملکیت کے اخبارات کو غلط طور پر فراہم کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تلنگانہ پبلی کیشنس پرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے شائع کئے جانے والے اخبارات نمستے تلنگانہ اور تلنگانہ ٹوڈے کو 2014 اور 2023ء کے درمیان ریاستی حکومت کی جانب سے اشتہارات پر خرچ کی جانے والی جملہ رقم 1,757 کروڑ روپئے کا 18.9 فیصد وصول ہوا۔ تلنگانہ پبلی کیشنس کا قیام 2010ء میں ہوا تھا۔ کے سی آر اس کے فاونڈنگ ڈائرکٹر تھے اور ان کے فرزند کے تارک راماراؤ 2012 تا 2014ء اس کے ڈائرکٹر رہے اور بہو کے شیلیما نے اسے 2019ء میں پرتھیما گروپ کو فروخت کرنے تک اس میں 56.45 فیصد اسٹیک رکھتی تھیں۔ ذرائع نے کہا کہ خاندانی کنٹرول کے ان اخبارات کو اشتہارات جاری کئے گئے اور ٹیرف میں اضافہ کو مقررہ طریقہ کار کو اپنائے بغیر منظوری دی گئی۔ سرکیولیشن کی غلط تفصیلات بتاتے ہوئے عہدہ کے غلط استعمال اور خاندانی کمپنی کو مالی فوائد پہنچانے سے چیف منسٹر کے حلف کی خلاف ورزی ہوئی اور سرکاری خزانہ کو نقصان ہوا۔ نمستے تلنگانہ کو مبینہ طور پر 182 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ آئی اینڈ پی آر سے 71.79 کروڑ روپئے، دیگر محکمہ جات سے 57.97 کروڑ روپئے وصول ہوئے اور 51.73 کروڑ روپئے حصول اراضی کے اشتہارات کے ذریعہ وصول ہوئے۔ تلنگانہ ٹوڈے کو مبینہ طور پر 150 کروڑ روپئے حاصل ہوئے بشمول حصول اراضی کے اشتہارات سے 77.66 کروڑ روپئے۔ ذرائع نے کہا کہ 2016ء اور 2019ء میں ٹیرف (اشتہارات کی شرحوں) میں اضافہ سے صرف نمستے تلنگانہ، تلنگانہ ٹوڈے اور ساکشی ہی کو فائدہ ہوا۔ دوسروں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ اس میں ریڈرشپ، پرنٹ حجم یا ایڈیشنس کے طریقہ کار کو ملحفوط نہیں رکھا گیا۔ 2016ء میں نمستے تلنگانہ کی شرح میں 875 روپئے سے 1,250 تک اضافہ کیا گیا اور 2019ء میں 1500 روپئے کیا گیا۔ تلنگانہ ٹوڈے کی شرح کو 2019ء میں دوگنا کرتے ہوئے 1,000 سے 2,000 روپئے کیا گیا اور یہ سب مبینہ طور پر ایک پرانے سی اے کے سرٹیفکیٹ کی اساس پر کیا گیا جس میں 1,49,245 کاپیز کا دعویٰ کیا گیا۔ یہاں یہ بات اہم ہیکہ دوسرے بڑے اخبارات کیلئے اشتہارات کی شرحوں میں کوئی نظرثانی نہیں ہوئی بلکہ اخبارات کو کوویڈ کے دوران کمی بھپی کی گئی۔ سرکیولیشن سرٹیفکیٹس سی اے، جی وی لکشمن راؤ نے جاری کئے تھے جو مبینہ طور پر کے سی آر خاندان کے دوست ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ فرضی دعوؤں سے خاندان کی ملکیت کے اخبارات کے تائید کرنا پریونیشن آف کرپشن ایکٹ 1988 اور بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023ء کے تحت جرائم کے مترادف ہوسکتا ہے اور اس میں ایک ویجلنس انکوائری کا امکان ہے۔ محدود سرکیولیشن کے باوجود تلنگانہ ٹوڈے کو 2019ء تا 2023ء ریاست میں جاری کئے گئے حصول اراضی اشتہارات میں 25 فیصد سے زیادہ اشتہارات حاصل ہوئے۔