بنڈی سنجے کمزور نشانہ، کانگریس کے خوف سے بی جے پی سے مفاہمت ، ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/9 نومبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر میں نریندر مودی یا امیت شاہ کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں ہے اور وہ بی جے پی کے کمزور ریاستی صدر بنڈی سنجے کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کے خلاف کے سی آر کے بیانات دراصل مودی اور امیت شاہ کے ساتھ طئے شدہ معاہدہ کے تحت ہیں۔ کانگریس پارٹی کے برسراقتدار آنے کے خوف سے دونوں پارٹیوں نے باہم مفاہمت کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی محض ایک ڈرامہ ہے تاکہ عوام کی توجہ دونوں حکومتوں کی ناکامیوں سے ہٹادی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر تحقیقات کے لئے بنڈی سنجے کو چیلنج کررہے ہیں یہی چیلنج وہ مودی اور امیت شاہ سے نہیں کرسکتے کیونکہ مرکزی حکومت کے سی آر کی تمام بے قاعدگیوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو دن مسلسل پریس کانفرنس کے ذریعہ کے سی آر نے بنڈی سنجے کو نشانہ بنایا۔ وہ جانتے ہیں کہ بنڈی سنجے مرکز پر اثر انداز نہیں ہوسکتے اور ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ مودی اور امیت شاہ سے کے سی آر نے میچ فکسنگ کرلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد الیکشن اور نرمل کے جلسہ عام میں امیت شاہ نے کے سی آر خاندان پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا لیکن آج تک تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں کے سی آر خاندان کے اثاثہ جات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کے سی آر، کے ٹی آر، کویتا ، ہریش راؤ اور سنتوش کمار نے الیکشن کمیشن کو جو حلف نامہ داخل کیا ہے اس میں اثاثہ جات میں اضافہ کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورآباد میں بی جے پی اور ٹی آر ایس میں ملا جلا الیکشن رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر واقعی کسانوں کے حق میں ہیں اور مرکز کے زرعی قوانین کے مخالف ہیں تو انہیں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے زرعی قوانین کی مخالفت میں قرار داد منظور کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور مرکز دونوں کسانوں کو دھان کی فصل سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کے سی آر نے زرعی قوانین پر کئی مرتبہ اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف جمعہ کو دھرنا منظم کرنے کے اعلان کو مضحکہ خیز قراردیا اور کہا کہ عوام نے چیف منسٹر کو دھرنے کیلئے اقتدار نہیں دیا ہے بلکہ چیف منسٹر کو کسانوں کی بھلائی کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ اگر چیف منسٹر خود مجبوری کا اظہار کریں تو پھر انہیں عہدہ پر برقراری کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کی بدعنوانیوں اور کرپشن کے خلاف مرکز کو بارہا ثبوت پیش کئے گئے لیکن آج تک تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔ر