کے سی آر کا دوسرا نام ایکسپیری میڈیسن : چیف منسٹر ریونت ریڈی

   

عوام نے بی آر ایس کو فراموش کردیا ۔ قائد اپوزیشن کا آفس تبدیل کرنا اسمبلی اسپیکر کا اختیار
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن کا آفس تبدیل ہوجانے کا فیصلہ اسپیکر نے کیا ہے ۔ اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بی آر ایس کے بارے میں سونچنا عوام نے چھوڑ دیا ہے ۔ اصل سنیما ابھی شروع ہوا ہے ۔ اسمبلی میں گورنر خطبہ کے بعد اپنے چیمبر میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہر مسئلہ کو متنازعہ بنانا اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا بی آر ایس کی عادت بن گئی ۔ اسمبلی میں مکمل اختیارات اسپیکر کے ہوتے ہیں کس کا چیمبر کہاں ہونا چاہئے اس کا فیصلہ اسپیکر کرتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے دونوں ایوانوں کے اراکین سے گورنر کے مشترکہ خطاب میں قائد اپوزیشن کے سی آر کی عدم شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل سے کے سی آر کی کتنی ہمدردی ہے اس کا اندازہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے طاس علاقوں میں رہنے والے عوام نے بی آر ایس کو مسترد کردیا ہے ۔ تلنگانہ کے عوام کے سی آر اور بی آر ایس کو بھول چکے ہیں ۔ کے سی آر کا دوسرا نام ایکسپیری میڈیسن ہے ۔ وہ چاہتے ہیں قائد اپوزیشن اسمبلی کے اجلاس میں حاضر رہے ۔ مشن بھاگیرتا کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ملازمتوں کی فراہمی کے معاملے میں کانگریس حکومت عہد کی پابند ہے ۔ راجیہ سبھا انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا کانگریس ہائی کمان انتخاب کرے گی ۔ ذات پات کی مردم شماری کے لیے اسمبلی میں قرار داد منظور کی جائے گی ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ہم نے کالیشورم پراجکٹ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم ہائی کورٹ نے برسر خدمات جج کی خدمات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ریٹائرڈ جج کے ذریعہ تحقیقات کرالینے کا حکومت کو مشورہ دیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے جو مشورہ دیا ہے اس پر کابینہ کے اجلاس میں یا اسمبلی میں مباحث کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی کے لیے وہ ضرورت پڑنے پر قائد اپوزیشن کے سی آر سے ملاقات کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ کے آر ایم بی کو سابق حکومت نے ہی پراجکٹس حوالے کیا ہے ۔ ناگرجنا ساگر پر جگن کی پولیس نے قبضہ کرلیا تھا ۔ اس وقت کے سی آر خاموش تماشائی بنے رہے ۔ ہر روز 12 ٹی ایم سی پانی آندھرائی حکومت لیجارہی ہے ۔ کے سی آر اس کو روکنے میں ناکام رہے ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن راجیہ سبھا وجئے سائی ریڈی کی جانب سے کئے گئے ریمارکس آئندہ تین ماہ میں تلنگانہ میں کانگریس حکومت اقتدار سے بیدخل ہوجانے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے وجئے سائی ریڈی کو نان سیریس پولٹیشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قائدین کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مزید کئی موضوعات پر مباحث کرنا ہے وہ امید کرتے ہیں اسپیکر اسمبلی کے اجلاس میں مزید توسیع دیں گے ۔۔ 2