حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے پارٹی کیڈر کو مشورہ
حیدرآباد۔ 17 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ’’کے سی آر کا مطلب تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کے جذبات‘‘ ہیں۔ عوام ہی بی آر ایس پارٹی کے ہائی کمان ۔ کانگریس دہلی کی اور بی جے پی گجرات کی غلام۔ کے سی آر کی سالگرہ تقریب کے موقع پر ہریش راؤ نے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور تلنگانہ تحریک کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ سے ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک مضبوط چٹان کی طرح مخالفین کا سامنا کیا۔ سب کو لے کر چلتے ہوئے پرامن طریقے سے علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ 1969ء میں جب پہلی مرتبہ تلنگانہ کی تحریک شروع ہوئی، اس وقت کے سی آر 15 سال کی عمر میں ’’جئے تلنگانہ‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔ ہزاروں گھنٹوں تک حکمت عملی تیار کرنے کے بعد کے سی آر نے علیحدہ تلنگانہ تحریک کا آغاز کیا۔ تلنگانہ کیلئے تمام عہدوں کی قربانی دی۔ پروفیسر جئے شنکر جیسے دانشوروں میں کے سی آر کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھتے ہوئے تلنگانہ تحریک کو مضبوط و مستحکم بنانے میں مکمل تعاون کیا۔ کے سی آر کی ضد کی وجہ سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوسکی۔ اس سے قبل کئی تحریکیں اُٹھیں، مگر وہ ناکام ہوگئیں۔ کے سی آر نے غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کرتے ہوئے علیحدہ تلنگانہ تحریک میں نئی جان ڈال دی جس کے بعد مرکزی حکومت نے علیحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ حاصل کردہ تلنگانہ ریاست کو ترقی دینے کیلئے 10 سال تک دن رات محنت کی جس کے بعد ریاست تلنگانہ کا ہر شعبہ ملک میں سرفہرست ہوا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو کئی ایوارڈس بھی حاصل ہوئے۔تلنگانہ کے عوام کے سی آر کو دوبارہ چیف منسٹر بنانے کے حق میں ہیں۔ ہریش راؤ نے بی آر ایس کیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ آرپار کی لڑائی لڑنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں، عوام کو انصاف دلائیں، جھوٹے مقدمات اور جیل جانے سے ہرگز نہ ڈریں، بی آر ایس پارٹی خاندان کے ہر رکن کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔2
اور تمام قانونی مدد کرے گی۔ 2