کے سی آر 10 مارچ کو کریم نگر میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے

   

لوک سبھا انتخابی مہم کا عملاً آغاز، پارٹی امیدواروں کے مسئلہ پر سینئر قائدین سے مشاورت
حیدرآباد۔/28 فروری، ( سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے لوک سبھا چناؤ کی مہم کے سلسلہ میں اضلاع میں عام جلسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں کے سی آر نے اسمبلی الیکشن کے بعد پہلی مرتبہ نلگنڈہ میں عوامی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے بی آر ایس کے خلاف مختلف تحقیقات اور بدعنوانیوں کے الزامات کی شدت کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے لوک سبھا کی انتخابی مہم شیڈول کے اعلان سے قبل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 10 مارچ کو کریم نگر میں جلسہ عام کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج گراؤنڈ پر جلسہ عام میں 2 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت کا منصوبہ ہے جس میں کے سی آر ریونت ریڈی حکومت کی ناکامیوں کو پیش کرتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے ہر لوک سبھا حلقہ میں ایک جلسہ عام کی تیاری کرلی ہے۔ کے سی آر نے کریم نگر کے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس میں 10 مارچ کے جلسہ عام کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کے ٹی آر، ہریش راؤ، کویتا کے علاوہ دیگر اہم قائدین کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے کے سی آر نے ریونت ریڈی حکومت کے الزامات کا موثر جواب کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ انہوں نے لوک سبھا کی 17 نشستوں کیلئے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر موجودہ ارکان پارلیمنٹ کو دوبارہ ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسمبلی چناؤ میں ارکان کو دوبارہ ٹکٹ دینے سے پارٹی کو نقصان ہوا تھا۔ خانگی اداروں کے ذریعہ سروے کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کی رپورٹ کی بنیاد پر مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا۔ کے سی آر نے لوک سبھا چناؤ میں کسانوں، سرکاری ملازمین، خواتین اور کمزور طبقات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری میں تاخیر کا فائدہ لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کو ہوسکتا ہے۔1