کے ٹی آر نے تیجسوی سوریا کے ریمارکس کو تلنگانہ کی توہین قرار دیا

   

علحدہ ریاست کی تشکیل کسی کی مہربانی نہیں ، ہزاروں قربانیوں کا نتیجہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا کے ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مخالف تلنگانہ اور عوام کی توہین قرار دیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو گواہ بناکر بی جے پی کے قائدین ایک بار پھر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خلاف اپنی نفرت ظاہر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وجود کا احترام نہ کرنا بی جے پی کی عادت بن چکی ہے اور ریاست کی تشکیل کا موازنہ تقسیم ہند سے کرنا انتہائی احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ کسی کی مہربانی یا خیرات سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ دہائیوں پر محیط جدوجہد اور ہزاروں نوجوانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔ اس عوامی تحریک کو تقسیم ہند جیسے المناک واقعے سے جوڑنا شہداء کے قربانیوں کی توہین ہے ۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اور کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کی خاموشی پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ہی ریاست کی توہین پر خاموش رہنا عوام کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو نمائندے پارلیمنٹ میں تلنگانہ کی عزت کا دفاع نہیں کرسکتے ۔ وہ عوام کو کیا جواب دیں گے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تلنگانہ سماج ان تمام سیاسی جماعتوں اور نمائندوں کے رویے کو بغور دیکھ رہا ہے اور ریاست کے مفادات کے مقابلے میں سیاسی مفادات کو ترجیح دینے والوں کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ کے ٹی آر نے تیجسوی سوریا کو اپنے متنازعہ ریمارکس سے فوری دستبردار ہوجانے اور تلنگانہ کے عوام سے غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں اپنے موقف کا اظہار کرے ۔ بصورت دیگر ان بیانات کو بی جے پی کی سرکاری پالیسی تصور کیا جائے گا ۔۔ 2/m/b