کے ٹی آر نے گلزار حوض واقعہ کے مہلوکین کو فی کس 25 لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا مطالبہ کیا

   

افراد ِ خاندان سے ملاقات ، فائر انجن میں پانی اور ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر نہ ہونے پر تشویش
حیدرآباد۔ 19 مئی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے گلزار حوض آتشزدگی واقعہ پر اپنے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرنے کے بعد ایکس گریشیا دینے سے بہتر ہے کہ حکومت، عوام کی جان و مال کی پہلے سے حفاظت کرے۔ اگر ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر اور ماکس ہوتے، ساتھ ہی فائر انجن میں پانی ہوتا تو اس حادثہ میں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔ کے ٹی آر نے آج پرانے شہر میں گلزار حوض پہنچ کر متاثرین کے افراد خاندان اور مقامی عوام سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے نہیں آئے اور نہ ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن حکومت کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں نشاندہی کررہے ہیں۔ مس ورلڈ مقابلوں کیلئے جتنی توجہ دی جارہی ہے، اتنی توجہ اگر عوام کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ بی آر ایس لیڈر نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب ماسکس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندر داخل ہوکر متاثرین کو بچا نہ سکے۔ 125 سال سے چارمینار کے قریب رہنے والوں اگروال خاندان 17 افراد کی دردناک موت پر انہیں صدمہ پہنچا۔ یہ حیدرآباد کا تاریخی واقعہ ہے۔ حکومت مہلوکین کو فی کس 25 لاکھ روپئے کا ایکس گریشیا فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ افراد خاندان سے جب انہوں نے ملاقات کی تو انہوں نے اس واقعہ کیلئے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا مگر چند سوال ضرور اُٹھائے۔ فائر انجن میں پانی نہیں تھا، عملہ کے پاس ماسک نہیں تھا، ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے آتشزدگی واقعہ میں اموات میں اضافہ ہوا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ موسم گرما آتا ہے تو محکمہ بلدی نظم و نسق کی ذمہ داری ہے کہ وہ حادثات سے محفوظ رہنے کے اقدامات کا جائزہ لیں۔ پرانا شہر گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ کوئی بھی حادثہ پیش آنے پر یہاں فائر انجن یا ایمبولینس کو پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ عہدیداروں کو مسلسل ٹریننگ دینے کی ضرورت ہے۔ Mock Drills کئے جانے چاہئے، لیکن حکومت کی جانب سے ایسی کوئی تیاری نہیں ہے۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس اہم ذمہ داری سے لاپرواہی برت رہی ہے، جس کے سبب بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہورہا ہے۔ حادثہ کے بعد اگر چیف منسٹر فوری مقام حادثہ پہنچتے تو بہتر ہوتا لیکن چیف منسٹر نے صرف 5 لاکھ روپئے کا اعلان کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی۔2