گاندھی خاندان اور اقتدار پر بی جے پی کی اجارہ داری

   

رامچندر گوہا
عام انتخابات 2024 کے بعد میری ملاقات کانگریس کے ایک نوجوان رکن اسمبلی سے ہوئی ۔ انہوں نے مجھ سے اپنے لیڈر راہول گاندھی کیلئے 5 مشورے دینے کی درخواست کی جس پر راقم الحروف نے کہا کہ میرے پاس راہول گاندھی کیلئے 5 مشورے تو نہیں بلکہ ایک مشورہ ہے اور وہ یہ ہے کہ پرینکا گاندھی کو کیرالا کے پارلیمانی حلقہ ویاناڈ سے مقابلہ نہیں کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ میرے اس مشورہ کو نظر انداز کردیا جائے گا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ان کی عوامی ساکھ یا شبیہہ بنانے میں بہت مدد کی اور انہیں عوام کے آدمی کے طور پر پیش کیا لیکن انتخابات کے بعد کانگریس کو دوبارہ ایک خاندانی ادارہ کے طور پر پیش کئے جانے سے بھارت جوڑو یاترا سے جو فوائد حاصل ہوئے تھے، وہ ضائع ہوگئے۔ پرینکا گاندھی کو ویاناڈ پارلیمانی حلقہ سے مقابلہ کروایا گیا اور انہوں نے وہ نشست بڑی آسانی سے جیت بھی لی۔ ویسے بھی ویاناڈ پرینکا گاندھی کیلئے اتنی ہی محفوظ تھی جس طرح امیت شاہ کیلئے گاندھی نگر کی نشست محفوظ تھی اور بڑے دعوؤں سے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی راہول گاندھی ملک کو متحد کر رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی جنوب کی نمائندگی کر رہی ہیں اور راہول گاندھی شمالی کی نمائندگی میں مصروف ہیں۔ پھر دستور کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پر ینکا گاندھی کو اپنا مرکزی مقرر بنایا حالانکہ ایمرجنسی نافذ کر کے دستور کو ان کی دادی اندرا گاندھی نے نقصان پہنچایا ۔ دوسری طرف عام انتخابات 2024 میں کانگریس کے 99 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی اور اس کامیابی نے راہول گاندھی کے اطراف موجود خوشامہ پسند حلقہ کو یہ اعلان کرنے کی ہمت و جرأت دی کہ راہول گاندھی مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان دعوؤں کو دہلی کے دانشوروں اور جماعتوں نے بھی بڑھا چڑھاکر پیش کیا جن کی مضبوط مخالف ہندوتوا شناخت ان کی کمزور سیاسی بصیرت اور شائد درباری مشیر بننے کی کوشش کی وجہ سے دھندلا گئی تھی ۔ دو سال بعد اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کانگریس کے خوشامدی ٹولے کی خوش فہمی قبل از وقت تھی۔ کانگریس کی بعض ریاستی یونٹس جیسے کیرالا اب بھی منظم ہیں اور کبھی کبھار اسمبلی انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کے بیشتر ریاستوں میں کانگریس مسلسل اپنی زمین کھو چکی ہے جبکہ بی جے پی اب گجرات ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ اور کئی دوسری ریاستوں میں اقتدار کی فطری پارٹی بن چکی ہے جہاں کبھی کانگریس کی اجارہ داری اور اس کا غلبہ تھا۔ ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ راہول گاندھی پارٹی کے اس زوال کو روکنے میں ناکام رہے ۔ دی پرنٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جب سے راہول گاندھی نے سال 2008 میں باقاعدہ پارٹی قیادت سنبھالی تب سے اب تک ملک بھر میں کانگریس ارکان اسمبلی کی تعداد گھٹ کر نصف رہ گئی یعنی پہلے 1204 ارکان اسمبلی کانگریس کے ہوا کرتے تھے ۔ اب ملک بھر میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کی تعداد 676 ہوگئی۔ راقم الحروف راہول گاندھی سے مل چکا ہے ۔ ان سے خط و کتابت بھی ہوتی رہتی ہے اور میری نظر میں وہ ایک اچھے انسان ہیں۔ اس معمولی واقفیت کے بغیر بھی مجھے راہول سے ہمدردی ہوتی کیونکہ انہوں نے نجی طور پر کافی سانحات جھیلے ہیں، غم برداشت کئے ہیں اور اس لئے بھی کہ 55 سال کی عمر میں بھی وہ اپنی ماں کی مرضی کے مطابق کام کرتے نظر آتے ہیں اور اس میں بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اپنی ماں سونیا گاندھی کے کہنے پر ہی سیاسی میدان میں داخل ہوئے اور آج بھی ان ہی کی خواہش پر کانگریس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن جب جمہوریت کا مستقبل داؤ پر لگا ہو تو انسان کو اپنا موقف صاف اور کبھی کبھی سخت انداز میں بیان کرنا پڑتا ہے ۔ راہول گاندھی ایک اچھے انسان ہوسکتے ہیں لیکن جو لوگ بی جے پی کی نفرت پر مبنی حکومت کے خلاف موثر انداز میں مزاحمت چاہتے ہیں، انہیں امید کہ بنیادی مرکز کے طور پر راہول گاندھی کو دیکھنا چھوڑ نا ہوگا۔ اگر دیکھا جائے تو نریندر مودی کے حریف اور خاص طور پر عہدہ وزارت عظمی کے لئے ممکنہ حریف کے طور پر راہول گاندھی میں نظم و ضبط ، سنجیدگی اور عملی تجربے کی کمی ہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ کسی اہم مسئلہ کو ا ٹھاتے ہیں مثال کے طور پر الیکشن کمیشن کے جانبدارانہ رویہ کے بارے میں بھی تب بھی وہ ا سے مستقل انداز میں آگے نہیں بڑھاتے ، کبھی وہ ووٹ چوری پر پریس کانفرنس کرتے ہیں اور پھر یوروپ یا لاطینی امریکہ کے دورہ پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی 22 سالہ سیاسی زندگی میں صرف بھارت جوڑو یاترا کی اور چند مہینوں کے دوران ہی راہول گاندھی نے خود کو اس توجہ اور محنت کا اہل ثابت کیا جو بی جے پی کے رہنما مسلسل کرتے رہتے ہیں، آج کل ان کی زیادہ تر سیاسی سرگرمیاں صرف ٹوئیٹر (ایکس) پر نظر آتی ہیں جہاں فوری طور پر لائکس تو مل جاتے ہیں مگر 24 گھنٹے کے اندر سب کچھ فراموش ہوجاتا ہے ۔ راہول گاندھی میں سنجیدگی کی کمی ان کے نمائشی انداز میں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ انہیں یہ سادہ لوحی پر مبنی یقین ہے کہ ماہی گیروں کے ساتھ تالاب میں کودنے یا کسی شیف کے ساتھ باورچی حانہ میں داخل ہونے سے ان کی پا رٹی کو ووٹ مل جائیں گے اور ان کے عملی تجربہ کی کمی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی حقیقی ملازمت نہیں کی۔ کسی کو واقعی معلوم نہیں کہ 2004 میں رکن پارلیمنٹ بننے سے پہلے راہول گاندھی کیا کام کرتے تھے ۔ یو پی اے حکومت کے دس برسوں کے دوران بھی انہوں نے وزارت میں شامل ہونے یا کوئی عہدہ لینے سے انکار کردیا تھا ، پھر ہندوستانی رائے دہندے کیوں یہ اعتماد کریں کہ وہ عظیم متنوع تہذیب کے حامل ملک کے موثر وزیراعظم ثابت ہوں گے ۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی ماحول مزید خطرناک بنتا جارہا ہے ، ایک اور بات راہول گاندھی میں ماضی کی علطیوں سے سبق سیکھنے کی کمی بھی واضح نظر آتی ہے۔ 2019 میں چوکیدار چور مہم بری طرح ناکام ہوئی تھی۔ اس کے باوجود وہ اب بھی مودی پر شخصی حملے کرتے ہوئے انہیں بزدل نااہل اور سمجھوتہ کرنے والے وزیراعظم قرار دے رہے ہیں ۔ انہیں وزیراعظم نریندر مودی پر شخصی حملوں کے بجائے مودی حکومت کی ناکامیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے یا کم از کم اپنی ہی پارٹی یعنی کانگریس کی زمینی سطح سے تنظیم نو کرنی چاہئے ۔ خود کانگریس میں بے شمار قائدین ان تنقیدوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن گاندھی خاندان کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے سوچتے ہیں کہ راہول گاندھی کی بہن کو ملک کی ہونے والی وزیراعظم کے طور پر پیش کرنا چاہئے ۔ راہول کو نیا نہرو قرار نہیں دیا جاسکتا، ہاں کانگریس قائدین یہ امید کرسکتے ہیں کہ پرینکا نئی اندرا ہوگی ، یہ بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ پرینکا گاندھی اپنے بھائی راہول گاندھی سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں ہندی تقریر کر تی ہیں ۔ ہندی وہ زبان ہے جو ہندوستانیوں کی اکثریت جانتی ہے لیکن پرینکا گاندھی بھی خاندانی یا موروثی سیاست کو آگے بڑھارہی ہیں اور انہیں بھی رائے دہندوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کم کامیابی حاصل ہوئی۔ ایک موقع پر پرینکا گاندھی نے 2022 یو پی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کی اور نتیجہ میں کانگریس کا ووٹ شیر 2.27 فیصد رہا ۔ حالیہ عرصہ کے دوران جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہاں بی جے پی نے موروثی سیاست کے خلاف مہم چلائی ۔ آسام میں ترون گوگوئی کے بیٹے گورو گوگوئی نے کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت کی ۔ دوسری جانب مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے اپنے بھتیجے ابھیشک بنرجی کو آگے بڑھایا ۔ ٹاملناڈو میں سی جوزف وجئے کو اسٹالن کے بیٹے سے مدد ملی ۔ انہوں نے ریاست میں موروثی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے عوام کو موروثی سیاست سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا تھا ۔ کیرالا میں کانگریس کو وجین کے داماد سے اقتدار حاصل کرنے میں مدد ملی کیونکہ وجین کے داماد کو ریاست کی سیاست میں آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی یقیناً ان نتائج کیلئے دوسرے پہلو بھی ذمہ دار ہیں لیکن موروثی سیاست بھی ایک اہم عنصر رہا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مئی 2014 سے ملک کے اقتدار پر نریندر مودی امیت شاہ اور ان کی پارٹی بی جے پی کی گرفت بہت مضبوط ہوئی ہے اور مودی ۔ امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کو ناقابل شکست قرار دیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف سونیا گاندھی اور راہول گاندھی خوشامدی ٹولے سے گھرے ہوئے ہیں۔ بہرحال آخر میں راقم الحروف یہی کہے گا کہ بی جے پی کو بھی شکست ہوگی جیسا کہ ہنگری میں وکٹر اُرہان اور Fidesz کا حال ہوا ، ان دونوں کو ایک غیر مقبول Peler Magyar اور ان کی نئی سیاسی جماعت نے شکست دے کر دنیا کو حیران کردیا تھا ۔ کوئی بھی ناقابل شکست نہیں ہوتا اس کی تازہ ترین مثال نیویارک میں دیکھی گئی جہاں میئر کے عہدہ کیلئے ہوئے انتخابات میں نوجوان زہران ممدانی نے ڈونالڈ ٹرمپ اور ایلون مسک جیسے منجھے ہوئے سیاستداں اور صنعت کار و سرمایہ کار کو خاک چٹادی۔ اب ہمارے ملک میں کاکروچ جنتا پارٹی منظر عام پر آئی ۔ اس کی مقبولیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے نوجوان حکمراں جماعت اور حکومت کی جھوٹ اور پروپگنڈہ سے تنگ آچکے ہیں۔