متعدد قائدین کو مشکل صورتحال کا سامنا ، پارٹی پر آمرانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام
حیدرآباد۔5۔مارچ(سیاست نیوز) گجرات بھارتیہ جنتا پارٹی 156 نشستوں پر کامیابی کے بعد ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے باوجود عدم استحکام کا شکار ہونے لگی ہے اور پارٹی کے داخلی اختلافات کے سبب پارٹی قائدین کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ گجرات بی جے پی کے شہری و ضلعی صدور کی جانب سے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے پارٹی پر الزام عائد کیا جار ہاہے کہ گجرات میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد پارٹی قائدین آمرانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے پارٹی کو کامیاب بنانے والے ضلعی قائدین و کارکنوں کو نظرانداز کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ پارٹی کے داخلی اختلافات کے نتیجہ میں گجرات کے بیشتر ضلعی صدور نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق کسی بھی طرح کی کوئی رائے ظاہر کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ سال گذشتہ کے اواخر میں گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شاندار کامیابی کے اندرون 3ماہ جس صورتحال کا سامنا پارٹی کو کرنا پڑرہا ہے اس کے متعلق پارٹی کے تنظیمی امور کے نگران کا کہنا ہے کہ بیشتر ضلعی صدور جو اب رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں وہ اپنے عہدوں سے مستعفی ہوتے ہوئے دوسروں کو موقع فراہم کر رہے ہیں جبکہ مستعفی ہونے والے قائدین کا کہناہے کہ ارکان اسمبلی اپنے ہمنوا کارکنوں کو تنظیمی امور میں اہم عہدے دلوارہے ہیں اور حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ ناراض قائدین کا کہنا ہے کہ تنظیمی امور میں لائی جانے والی ان تبدیلیوں کے دوران پارٹی کے ان کارکنوں کو نظرانداز کیا جا رہاہے جو انتخابی مہم کے دوران عوام کے درمیان پہنچ کر پارٹی کو کامیاب کروانے کے لئے کوششوں میں مصروف رہے۔ ان کارکنوں اور قائدین کا کہناہے کہ گجرات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد پارٹی قائدین کی آمریت میں اضافہ ہوچکا ہے اور وہ من مانی پر اتر آئے ہیں ۔ گجرات بھارتیہ جنتا پارٹی میں پائی جانے والی ان ناراضگیوں کے سلسلہ میں قومی بی جے پی نے رپورٹ طلب کی ہے اور کہا جار ہاہے کہ گجرات کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے بڑے پیمانے پرتنظیمی امور میں تبدیلی لانے کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ پارٹی کارکن اور قائدین کے درمیان جاری رسہ کشی کی صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔م
اور گجرات میں پارٹی کو کسی بھی طرح کی عدم استحکام کی صورتحال سے محفوظ رکھتے ہوئے پارٹی کے بوتھ سطح کے کارکنوں کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے۔م