گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے چناؤ میں بی آر ایس مقابلہ نہیں کرے گی

   

آزاد امیدوار کی تائید پر غور، پارٹی کی مقبولیت میں کمی پر بی آر ایس قیادت کا فیصلہ
حیدرآباد ۔27۔ڈسمبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کی گریجویٹ زمرہ کی نشست کے مجوزہ انتخابات کے لئے کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں تینوں پارٹیوں نے قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کریم نگر ، نظام آباد ، عادل آباد اور میدک اضلاع پر مشتمل گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے امکانی امیدوار کے مسئلہ پر غور کیا۔ اب جبکہ گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے انتخابات قریب آچکے ہیں، بی آر ایس کی جانب سے مقابلہ سے دوری کی اطلاعات نے پارٹی کیڈر میں تشویش کا لہر دوڑادی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کریم نگر ، نظام آباد ، عادل آباد اور میدک میں پارٹی کی عدم مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بی آر ایس قیادت نے سرکاری طور پر امیدوار کو میدان میں اتارنے کے بجائے کسی آزاد امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجویٹ نشست پر کامیابی کے امکانات سے متعلق سروے رپورٹ کے منفی منظر عام پر آنے کے بعد بی آر ایس قیادت نے مقابلہ سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم ایل سی نشست کے الیکشن میں مقابلہ کیلئے جن قائدین سے خواہش کی گئی ، انہوں نے کوئی نہ کوئی بہانہ کرتے ہوئے معذرت کرلی ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران چاروں اضلاع نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے بعد مذکورہ اضلاع میں بی آر ایس کیڈر منتشر دکھائی دے رہا ہے۔ کامیابی کے امکانات کو موہوم دیکھتے ہوئے بی آر ایس نے راست طور پر مقابلہ کے بجائے کسی آزاد امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں نلگنڈہ ، کھمم اور ورنگل اضلاع پر مشتمل گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشست کے الیکشن میں بی آر ایس نے راکیش ریڈی کو امیدوار بنایا تھا۔ بی جے پی نے پرمیندر ریڈی کو میدان میں اتارا تھا۔ کانگریس امیدوار کے طور پر جہد کار تین مار ملنا نے مقابلہ کیا اور کانگریس امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بھاری رقومات خرچ کرنے کے باوجود بی آر ایس کو دوسرا مقام حاصل نہیں ہوا۔ سابق میں کریم نگر ، نظام آباد ، عادل آباد اور میدک اضلاع پر مشتمل گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے الیکشن میں بی آر ایس نے گروپ I آفیسرس یونین کے صدر چندر شیکھر گوڑ کو امیدوار بنایا تھا لیکن کانگریس کے جیون ریڈی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں نوجوان رائے دہندوں کی جانب سے کانگریس کی تائید کے سبب بی آر ایس قیادت کو ایم ایل سی چناؤ میں گریجویٹ رائے دہندوں کی تائید کے حصول کا امکان نہیں ہے، لہذا ایم ایل سی چناؤ میں بی آر ایس مقابلہ نہیں کرے گی۔1