حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کے انچارج وزیر اور وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے واٹر ورکس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ حیدرآباد میں عوام کو پانی کی موثر سربراہی کو یقینی بنائیں اور کسی بھی علاقہ میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔ پونم پربھاکر نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں شہر کے مسائل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی آمد کے پیش نظر ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں پانی کی سربراہی نہیں ہے ان علاقوں میں پانی کی سربراہی کے متبادل انتظامات کئے جائیں۔ جائزہ اجلاس میں کمشنر جی ایچ ایم سی رونالڈ راس، کلکٹر حیدرآباد انودیپ، میئر جی وجئے لکشمی، ڈپٹی میئر سری لتا، زونل کمشنر اور مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ حیدرآباد کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پونم پربھاکر نے پہلی مرتبہ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی شناخت کو متاثر ہونے سے بچانا عہدیداروں کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں حیدرآباد کی شناخت ترقی یافتہ شہر کے طور پر ہے۔ عہدیداروں کو چاہیئے کہ وہ حکومت کے امیج کو متاثر کرنے والا کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات حاصل کیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ حیدرآباد کے برانڈ نیم کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے عہدیداروں کو چوکس رہنا چاہیئے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ تمام امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں حکومت سنجیدہ ہے۔ موسم گرما کے پیش نظر پانی کی سربراہی پر توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی میں اضافہ کیلئے عہدیداروں کو چوکسی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موسی ندی کی ترقی کیلئے حکومت کئی عالمی اداروں سے اشتراک کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ شہری علاقوں کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ ریاست کے مرکزی حکومت سے کوئی اختلافات نہیں ہیں اور ترقی کے معاملہ میں مرکز کو ساتھ لے کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں اثاثہ جات اور جی ایچ ایم سی کے قرض کی تفصیلات چیف منسٹر کو پیش کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو فنڈز جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے شہر کے مسائل کے بارے میں عہدیداروں کو تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر پر جلد ہی حکومت پالیسی فیصلہ کا اعلان کرے گی۔1