دکان کے ایل ای ڈی سے شاٹ سرکٹ ، محکمہ فائر سیفٹی کی تحقیقات میں انکشاف
حیدرآباد /21 مئی ( سیاست نیوز ) گلزار حوض آتشزدگی سانحہ میں حیرت انگیز پہلو سامنے آرہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی وجوہات یقیناً چونکا دینے والی بتائی جارہی ہے ۔ اتنے بڑے پیمانے پر شہر کی تاریخ کے اس بدترین سانحہ میں 17 افراد کی ہلاکت مکمل طور پر انسانی لاپرواہی قرار دیا جارہا ہے ۔ حادثہ کے تقریباً 2 گھنٹے تک اس کی اطلاع کسی بھی سرکاری مشنری کو نہیں دی گئی ۔ آگ لگنے کی اطلاع گھنٹوں بعد پولیس اور محکمہ فائر سیفٹی کو حاصل ہوئی ۔ یہ حیرت زدہ کردینے والی اطلاعات کا انکشاف محکمہ فائر سیفٹی کی تازہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے حادثہ کے بعد سے محکمہ فائر سیفٹی کے اعلی عہدیدار گلزار حوض علاقہ کا دورہ کر رہے ہیں اور اپنی جانب سے آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں۔ اسی دوران چند حیرت و خوف زدہ کرنے والی حقیقت کا انکشاف ہوا ۔ محکمہ فائر سیفٹی کے مطابق 17 اموات کی اصل وجہ انکا ایک ہی کمرہ میں پناہ لینا تھا ۔ آگ لگنے کے گھنٹوں گذرنے کے بعد فائر اور پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی ۔ تقریباً ایک سے زائد گھنٹے تک انہوں نے اپنے طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی اور جب حالات بے قابو ہوتے ہوئے نظر آئے تو دو خواتین مکان سے نکل کر مدد کیلئے شہریوں کو آواز دی ۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کی پہلی منزل کے ایک کمرے میں 17 افراد نے اپنے آپ کو بند کرلیا ۔ شاید ان کا خیال تھا کہ باہر حالات خطرناک ہیں اور وہ اس کمرے میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔ لیکن نتیجہ اس کے برخلاف نکلا ۔ فائر سیفٹی کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ حادثہ برقی شاک سرکٹ ہو یا اے سی کے تاروں کے گرم ہونے یا پھرا ور لوڈ کے سبب پیش آیا لیکن ایسا نہیں تھا برقی شاک کی اصل وجہ ایل ای ڈی اسکرین کے سبب ہوا۔ عمارت کے گراونڈ فلور پر موجودہ دوکان کے چاروں طرف ایل ای ڈی اسکرین لگائے گئے اور دوکان کا فرنیچر مکمل طور پر پلائی ووڈ سے تیار کیا ہوا ہے۔ دوکان کے ذریعہ شروع ہوئی آگ تاخیر سے اقدام کے سبب عمارت میں پھیل گئی ۔ ایک اور حیرت ناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ 17 افراد کا ایک کمرے میں بند ہونے کی وجہ جہاں جان بچانا تھا وہیں جان سے زیادہ مال بچانے کی فکر بھی ایک وجہ تھی ۔ دوکان کے قیمتی سامان کو بچانے کیلئے جو فرسٹ فلور کے کمرے میں موجود تھا ۔ اس میں تمام افراد نے اپنے آپ کو بند کرلیا۔ انہیں خوف تھا کہ کہیں مدد کیلئے آنے والے افراد سامان کو نہ لے لیں اور اس کمرے میں اسی خاندان کا ایک ضعیف شخص بھی موجود تھا جس کو اکیلا ایسی حالات میں چھوڑنا اس خاندان کو گوارہ نہیں تھا۔ اگر حادثہ کی اطلاع پہلے ہی کردی جاتی تو شاہد اس طرح کا سانحہ نہ پیش آتا۔ ع