حیدرآباد۔ مرکزی گنیش وسرجن جلوس آج پُرامن طور پر اختتام کو پہنچا حالانکہ پولیس نے جلوس نکالنے کی کسی کو اجازت نہیں دی تھی لیکن جتھوں کی شکل میں آٹو ٹرالیوں، ڈی سی ایم ویان اور بڑی لاریوں میں گنیش مورتیوں کو ٹینک بنڈ اور شہر کے دیگر تالابوں کو لیجایا گیا جہاں پر وسرجن عمل میں آیا۔ پولیس نے وسیع ترین سیکوریٹی انتظامات کئے تھے اور دونوں شہروں میں 15000 پولیس عملے کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ سال 23 ہزار پولیس عملے کو تعینات کیا گیا تھا۔ جاریہ سال کورونا وباء کے پیش نظر پولیس سے بڑی مورتیاں بٹھانے پر پابندی عائد کی تھی اور جلوس نکالنے کی اجازت نہیں تھی لیکن آج کورونا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں افراد نے گنیش جلوس میں حصہ لیا۔ بالا پور گنیش وقت سے قبل ہی نکلا اور 11:45 بجے اس مورتی کا وسرجن کیا گیا۔ بالا پور گنیش کے روایتی لڈو کا اس سال ہراج نہیں ہوا اور آرگنائزرس نے لڈو کو چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو پیش کرنے کا اعلان کیا۔ پولیس کمشنر انجنی کمار کی نگرانی میں وسرجن کا بندوبست عمل میں لایا گیا اور انہوں نے دیگر پولیس عہدیداروں بشمول ایڈیشنل کمشنر کرائم شیکھا گوئیل، ایڈیشنل کمشنر ٹریفک انیل کمار اور جوائنٹ کمشنر پولیس سنٹرل زون پی وشوا پرساد کے ساتھ بندوبست کی راست نگرانی کی۔ اس موقع پر پولیس کمشنر نے حسین ساگر جھیل، این ٹی آر گھاٹ اور لمبنی پارک میں بوٹ چلاتے ہوئے وسرجن پروگرام کا جائزہ لیا۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے وسرجن کیلئے 21 کرینس کا انتظام کیا گیا تھا چونکہ مورتیوں کا قد جاریہ سال کم ہونے پر مورتیوں کا تیزی سے وسرجن عمل میں لایا گیا۔ رات دیر گئے 12 بجے تک 4800 مورتیوں کا وسرجن عمل میں لایا گیا۔ ہمیشہ کی طرح سڑکوں پر ٹریفک کی گہما گہمی میں کمی تھی اور گنیش کی مورتیوں کے ساتھ کاروں اور دیگر گاڑیوں کو بھی جانے کی اجازت دی گئی تھی۔