دھان (چاول) سے لدا ایک ٹرک رات ڈیڑھ بجے کے قریب ’نو انٹری‘ (ممنوعہ) زون میں داخل ہوا اور ’درشن‘ کے منتظر کئی عقیدتمندوں کو کچل دیا
گوالیار: پولیس کے مطابق، اتوار کی صبح مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیار میں ایک مندر کے باہر ’نوراتری‘ کی پوجا کے لیے جمع عقیدتمندوں پر ایک تیز رفتار ٹرک چڑھ گیا، جس کے نتیجے میں کئی نوجوانوں سمیت 15 افراد ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ پنجاب نمبر پلیٹ والا، دھان سے لدا یہ ٹرک رات ڈیڑھ بجے کے قریب ’چنار روڈ‘ پر واقع ’نو انٹری‘ زون میں داخل ہوا۔ اس نے ’درشن‘ کے منتظر عقیدتمندوں اور سڑک کنارے موجود دکانوں کو ٹکر ماری، اور پھر ’شیتلا ماتا مندر‘ کے داخلی دروازے سے جا ٹکرایا۔
مندر کی دیوار کے نیچے لوگ پھنس گئے، ڈرائیور فرار حکام کے مطابق، ٹکر اتنی شدید تھی کہ مندر کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا، جس کے ملبے تلے کئی لوگ دب گئے۔ کولکتہ درگا پوجا بھگدڑ: 19 ہلاک، 12 حراست میں انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرک کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا ہے اور پولیس کی ٹیمیں اس کی تلاش کر رہی ہیں۔
ایک تفتیش کار نے بتایا کہ ممکنہ طور پر ٹرک کے بریک فیل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے ڈرائیور نے گاڑی پر قابو پانے کی کوشش میں اسے بائیں جانب موڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرک سیدھا جاتا تو کم از کم 600 سے 700 عقیدتمند اس کی زد میں آ سکتے تھے۔
وزیراعظم مودی کی جانب سے 50 ہزار روپے کی امدادی رقم کا اعلان وزیراعظم نریندر مودی نے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ ہر ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے، جبکہ ہر زخمی کو 50 ہزار روپے کی امدادی رقم دی جائے گی۔
مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے فی کس 4 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے اور دیگر زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شدید زخمیوں کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ سٹی ایس پی کو ہٹا دیا گیا، 8 اہلکار معطل وزیراعلیٰ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جس کے ساتھ ہی علاقے کے سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی ایس پی) کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور غفلت برتنے پر پولیس کے آٹھ دیگر اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ اس لیے پیش آیا کیونکہ ٹرک ایک ممنوعہ علاقے میں داخل ہو گیا تھا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو حقائق پر مبنی تحقیقات کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
یہ حادثہ گوالیار شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع 125 سال پرانے ‘شیتلا ماتا مندر’ کے باہر پیش آیا، جہاں نورتری کی پوجا کے لیے ہزاروں عقیدتمند جمع تھے اور ‘درشن’ (زیارت) کے منتظر تھے۔ حکام کے مطابق، حادثے میں 15 افراد ہلاک اور دو پولیس اہلکاروں سمیت 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

مذہبی مقام (مندر) سے تقریباً ایک کلومیٹر دور گاڑیاں کھڑی کرنے کا اصول ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرک اس ممنوعہ علاقے میں کیسے داخل ہو گیا، جہاں کچھ لوگوں کے مطابق ایک سائیکل کا گزرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
ٹرک پولیس کی رکاوٹوں (بیری کیڈز) کو توڑ کر اندر داخل ہوا ایکٹنگ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) اسیت یادو نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ مندر کے بائیں جانب کی ایک دیوار گر گئی۔ کلکٹر روچیکا چوہان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹرک مزار (مندر) کی جانب تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے پولیس کی رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل ہو گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرک کو روکنے کی کوشش کے دوران پولیس کے دو اہلکار بھی زخمی ہوئے، اور مزید کہا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس (آر ٹی او) کو گاڑی کا معائنہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ یادو نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے گوالیار کے سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہٹانے اور تین اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز)، ایک ٹریفک انسپکٹر، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور تین کانسٹیبلوں کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ داری کا تعین کرنے اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ یادو نے کہا، “تمام شہریوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
عوامی تحفظ کے معاملے میں کسی بھی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔” لواحقین کی جانب سے سوالات ہلاک ہونے والوں کی شناخت ستیندر سنگھ گوجر (22)، سرلا تومر (50)، گورو پریہار (18)، مہیش شرما (45)، وملیش بگھیل (18)، دیویش بگھیل (17)، چھوٹو جاٹو (16)، شوریہ شرما (16)، ہیمنت راٹھور (19)، دیویانش کشواہ (17)، پون راٹھور (23)، لو تیاگی (15)، امن تیاگی (13)، اشوک تیاگی (45) اور نتیش (18) کے طور پر کی گئی ہے۔
زخمیوں اور لاشوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جن میں گوالیار کا ٹراما سینٹر بھی شامل ہے۔

ٹراما سینٹر میں پوسٹ مارٹم کی جگہ کے قریب جمع ہونے والے لواحقین نے سوال اٹھایا کہ ایک بھاری ٹرک ایسی جگہ کیسے پہنچ سکتا ہے جہاں، ان کے دعوے کے مطابق، ایک سائیکل کا گزرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
ہلاک ہونے والی عقیدت مند سرلا تومر کے بھتیجے، لوکیندر سنگھ تومر نے پوچھا کہ سیکیورٹی انتظامات کے باوجود ٹرک مندر کے احاطے میں کیسے داخل ہو گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی آنٹی (پھوپھی) عبادت کے لیے جا رہی تھیں، اور انہوں نے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
ہلاک ہونے والے نوجوان دیویانش کشواہ کی ایک رشتہ دار، ساوتری نے بتایا کہ جب عبادت کے بعد پورا گروہ مندر سے باہر آیا تو خاندان کو احساس ہوا کہ وہ (دیویانش) غائب ہے۔