ووٹ چوری اور بدعنوانی کیخلاف کانگریس کی لڑائی جاری‘گوا بچاؤ مارچ سے خطاب
مڈگاؤں( گوا)۔18؍اکتوبر ( ایجنسیز)کانگریس قائد راہول گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ گوا کی بی جے پی حکومت ریاست کی زمین کسانوں اور غریبوں سے چھین کر ارب پتیوں کے حوالے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں بدعنوانی کو ایک ماڈل کی شکل دے دی گئی ہے جہاں زمینوں کی خرید و فروخت سے لیکر مختلف شعبوں میں بدعنوانی تک، سب کچھ عوام کی قیمت پر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے انتخابات میں پوری طاقت سے کام کریں اور پارٹی کو مکمل اکثریت دلائیں۔راہول گاندھی اتوار کو مڈگاؤں کے کالکونڈا میں گوا کانگریس کی جانب سے منعقدہ ’گوئے راکھون یاترا‘ (گوا بچاؤ مارچ) سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کیلئے عوام کے درمیان جا کر ان کے مسائل سننا ضروری ہے۔ عوام کی مشکلات کو سمجھنے کے بعد ہی ان کے حل کیلئے مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔راہول گاندھی نے ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات پر بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے ذریعے اپوزیشن کے حامیوں کے ووٹ کاٹے جاتے ہیں جبکہ اپنے حامیوں کے ووٹ بڑھائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش، ہریانہ، کرناٹک، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا، مغربی بنگال اور آسام میں ووٹ چوری کے الزامات کو ثبوتوں کے ساتھ اٹھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس آئین کے تحفظ کیلئے اپنی لڑائی جاری رکھے گی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنائے گی۔راہول گاندھی نے گوا میں بدعنوانی کو ملک کے لیے ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں زمینوں سے متعلق بدعنوانی سمیت مختلف طریقوں سے عوامی وسائل کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی تقرریوں کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ عوام کی حمایت سے گوا میں کانگریس اقتدار میں آ سکتی ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جب بھی گوا میں ان کی ضرورت ہوگی وہ یہاں آنے کیلئے تیار ہیں۔