تلنگانہ گورنر نے راج بھون کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کردیا : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے راج بھون کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کرنے اور راج بھون میں ایک پارٹی کے قائدین کی تصاویر لگانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس کو دستوری اقدار کی خلاف ورزی اور ملک و سسٹم کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے ۔ سرسلہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ہماری پارٹی دستوری تہذیب و تمدن کا احترام کرتی ہے ۔ دستوری عہدوں پر فائز رہنے والوں کو جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہئے ۔ سیاسی پارٹیوں کے ترجمان کی طرح مباحث میں حصہ نہیں لینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دو دن قبل وزیراعظم نے تقریر کرتے ہوئے برٹش دور کے غلامانہ ذہنیت دور ہونے کی بات کی ہے اور راج پتھ کو کرتیوایا پتھ کے نام سے تبدیل کیا گیا ہے ۔ گورنر نظام کو بھی برطانیہ والوں نے متعارف کرایا ہے ۔ پھر اس کو کیوں برقرار رکھا جارہا ہے ۔ وزیراعظم سے استفسار کیا ۔ گورنر نظام سے ملک کو کیا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے پر زور دیا ہے ۔ جب مودی گجرات کے چیف منسٹر تھے انہوں نے گورنر نظام پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے سیاسی قائدین کو گورنر نا بنانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ مودی نے اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گورنر نظام انگریزوں کی دین ہے ۔ وزیراعظم کے نام کو ’ وائسرائے ‘ کی حیثیت سے تبدیل کرلیں یا گورنر کے عہدے کو ختم کردیں ۔ کے ٹی آر نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ مسلسل نا انصافی ہونے کا الزام عائد کیا ۔ ریلوے بجٹ میں تلنگانہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ تقسیم آندھرا پردیش بل میں قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا جس پر آج تک عمل آوری نہیں ہوئی ۔ تلنگانہ سے ساوتھ سنٹرل ریلوے کو بہت زیادہ آمدنی ہورہی ہے ۔ مگر ترقیاتی و سہولتوں کی فراہمی میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے ۔ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد تلنگانہ کو ایک بھی نئی ریل منظور نہیں ہوئی ۔ گذشتہ 8 سال کے دوران صرف 100 کلو میٹر طویل ریلوے ٹریک بچھائی گئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تقسیم آندھرا پردیش کے بل میں تلنگانہ کے ساتھ جو بھی وعدے کئے گئے ان 8 سال کے دوران ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا ۔ اگر ان کی بات غلط ہونے کا بی جے پی کے قائدین ثبوت پیش کردیں تو وہ کسی بھی سزا کے لیے تیار رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کے لیے یہ آخری بجٹ سیشن ہیں ۔ تلنگانہ سے حکومت نے ٹیکسوں کی شکل میں مرکز کو 3 لاکھ 68 ہزار کروڑ فراہم کئے ہیں ۔ بدلے میں مرکزی حکومت نے ایک لاکھ 68 ہزار کروڑ روپئے ہی تلنگانہ کے خزانے کو واپس کیے ہیں ۔ تلنگانہ کے فنڈز کو بی جے پی کے زیر قیادت ریاستوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔۔ ن