قاضی پیٹ 10 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست میں انتہائی مصروف ریلوے روٹ (سکندرآباد) گھٹکیسر ۔ قاضی پیٹ سیکشن میں چوتھی لائن بچھانے کے لیے مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ واڈی – سکندرآباد – قاضی پیٹ روٹ پر اس وقت تین ٹریک موجود ہیں اور ان پر صلاحیت سے 120 فیصد زیادہ ریلوے ٹریفک چل رہی ہے۔ٹرافک میں مزید اضافہ ہونے کی وجہ سے گھٹکیسر ۔ قاضی پیٹ کے درمیان 110 کلومیٹر طویل چوتھی لائن تعمیر کی جائے گی۔ اس روٹ میں 17 بڑے پل اور 151 چھوٹے پلوں کی تعمیر کی جائے گی۔ 2,419 کروڑ روپے کی لاگت سے چوتھی لائن کا کام مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح آندھرا پردیش میں رینی گنٹہ – اراکونم روٹ پر 1,936 کروڑ روپے کی لاگت سے اضافی (تیسری اور چوتھی) دو لائنوں کی تعمیر کے لیے بھی مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ 77 کلومیٹر طویل ان لائنوں کو تین سال میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کل بدھ کے روز وزیر اعظم مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں ملک بھر میں 8 اہم ریلوے پراجکٹس کو منظوری دی گئی۔ اس کی تفصیلات ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے بتائی۔ ریلوے کی صلاحیت بڑھانے اور بھیڑ کو کم کرنے کے مقصد سے 8 ہائی ڈینسٹی ریلوے کوریڈورس کو چار لائنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں کل ریلوے ٹریفک کا 40 فیصد سے زیادہ انہی روٹس پر ہے۔ سکندرآباد ۔ قاضی پیٹ روٹ میں چوتھی لائن کے لیے کابینہ کی منظوری پر مرکزی وزیر کشن ریڈی نے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ریلوے ٹریفک کم ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کی وقت کی پابندی میں بھی بہتری آئے گی۔ وجئے واڑہ اور ممبئی روٹ پر مزید ٹرینیں چلانے کے لیے روٹ آسان ہو جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ریاست بننے کے بعد ریلوے بجٹ کی الاٹمنٹ 21 گنا بڑھ گئی ہے اور پچھلے 12 سالوں میں مرکز نے تلنگانہ کے لیے 36,286 کروڑ روپے الاٹ کئے ہیں۔