گیانیش کمار کیخلاف درخواست پر سماعت کیلئے سپریم کورٹ راضی

   

الیکشن کمیشن کے بعض فیصلے ا لیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیرکرنے کا الزام‘ آئندہ ہفتہ سماعت

نئی دہلی ۔29؍ستمبر( ایجنسیز )الیکشن کمیشن سے متعلق تنازعہ کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار کیخلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نام پر لیے گئے بعض فیصلوں میں دوسرے الیکشن کمشنروں کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ خاص طور پر ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار راکیش کمار سنگھ نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ درخواست دائر کی ہے۔درخواست میں الیکشن کمیشن کے کثیر رکنی ڈھانچے، فیصلے لینے کے طریقۂ کار اور چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سے متعلق کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔ منگل کو سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کی جلد سماعت کیلئے فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔درخواست میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے سمیت کئی مطالبات کے ساتھ یہ دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کم از کم 14 معاملات میں اعتراضات درج کیے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان معاملات میں ایسے اقدامات کیے گئے جنہیں دونوں الیکشن کمشنروں نے کمیشن کی منظوری کے بغیر اٹھائے گئے اقدامات قرار دیا۔ ان الزامات میں سب سے اہم معاملہ ایس آئی آر کا ہے۔ درخواست میں فارم-6 کو لیکر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ درخواست میں تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار اپیلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اپیلیں الیکشن کمیشن کے نام پر ان ووٹروں کے سلسلے میں دائر کی گئی تھیں جن کے نام عدالتی افسران کے حکم کے بعد ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے تھے۔ درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان اپیلوں کو دائر کرنے کی اجازت کس نے دی تھی۔اسی معاملے میںمنظوری سے متعلق کاغذات اور دیگر ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انتخابی کمیشن کے الیکٹرانک اور کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔