عدالت سے چیف سکریٹری کی معذرت خواہی
حیدرآباد ۔23 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود سرکاری اسکولوں کے احاطہ میں گرام پنچایتوں اور رعیتو بھروسہ مراکز کی تعمیر پر عدالت نے چیف سکریٹری جواہر ریڈی اوردیگر اعلیٰ عہدیداروں راجیو دیویدی اور پراوین پرکاش کو طلب کیا تھا۔ عدالت میں حاضری کے موقع پر چیف سکریٹری جواہر ریڈی سے ججس نے کئی سوالات کئے ۔ انہوں نے حکومت کی کئی خامیوں کی نشاندہی کی اور سوال کیا کہ عدالت کی ہدایت کے باوجود اسکولوںکے احاطہ میں دفاتر کی تعمیر کس طرح جاری ہے۔ اس مسئلہ پر حکومت کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے سوال کیا کہ آیا تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا یا نہیں۔ عدالت نے کہاکہ جون 2020 ء کو ہائی کورٹ نے اسکولوںکے احاطہ میں دفاتر کی تعمیر کے خلاف فیصلہ دیا تھا لیکن نظم و نسق کی جانب سے عمل آوری نہیں کی گئی۔ عدالت نے عہدیداروںکے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے محکمہ تعلیم اور محکمہ پنچایت راج کے درمیان تنازعہ کے بارے میں وضاحت کیلئے چیف سکریٹری جواہر ریڈی کو حاضر ہونے کی ہدایت دی۔ پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم گوپال کرشنا دیویدی اور پراوین پرکاش بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔ ر
چیف سکریٹری نے احکامات پر عمل آوری میں تاخیر پر عدالت سے معذرت خواہی کی ۔ انہوں نے بتایا کہ 63 اسکولوں کے احاطہ میں دفاتر تعمیر کئے گئے اور 57 مقامات پر تعمیر کردہ عمارتیں اسکولوں کے حوالے کردی گئیں۔ر